انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 467

۴۶۷ کہ جناب مولوی صاحب نے جو اپنے رسالہ میں حضرت صاحب کی مختلف تحریر میں نقل کر کے یہ بتانا چاہا ہے کہ دیکھو حضرت مسیح موعود ہمیشہ ایک ہی دعویٰ کرتے رہے ہیں۔یہ صرف ایک غلطی فہمی کا نتیجہ ہے اور ان تحریروں سے تو ہمارا دعوی ٰثابت ہوتا ہے نہ ان کا۔یہی ہمارا دعوی ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے دعویٰ کی جو تفصیل بیان کرتے رہے ہیں۔وہ ہمیشہ سے وہی رہی ہے۔جو نبیوں کے دعوے کی ہوتی ہے۔گو ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے کہ اس کو نبوت کے نام سے موسوم نہیں فرماتے تھے۔نبی کسے کہتے ہیں؟ موجودہ اختلاف اور شور پر میں جس قدر غور کر تا ہوں۔حیران ہوتا ہوں کہ کس طرح ایک بے توجہی کے باعث یہ اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔سب سے پہلا سوال جو مسیح موعود کی نبوت کے متعلق بحث کرتے وقت پیدا ہو نا چاہئے تھا۔وہ یہ تھا کہ نبی کہتے کسے ہیں؟ مثلا اگر کسی شخص کی نسبت یہ بحث ہو کہ وہ لوہار ہے یا نہیں ہے۔تو اول بحث کرنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ لوہار کہتے کسے ہیں ؟ اگر ان کو لوہار کی تعریف بھی معلوم نہیں تو وہ بحث کرہی نہیں سکتے۔جس چیز کا علم ہی نہیں کہ وہ کیا شےہے؟ اس پر بحث کیا ہوگی؟ پس اول فرض تو ہر ایک شخص کا یہ ہے کہ وہ یہ معلوم کرےکہ نبی کی تعریف کیا ہے ؟ مگر معلوم ہو تا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کے منکروں نے اس سوال پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔وہ اس پر تو بحث کرتے ہیں کہ فلاں شخص نبی ہے یا نہیں ہے۔لیکن خوداس قدر بھی علم نہیں کہ نبی کے معنی کیا ہیں؟ اور ان کی بحث کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بچے آپس میں بادشاہ اور وزیر بن کر کھیلنے لگتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ بادشاہ ہو تا کیا شئے ہے بس ایک نام سنا ہوا ہوتا ہے۔اسی کی بناء پر اپنے خیال سے ایک عمارت کھڑی کر لیتے ہیں۔اور وہ واقعہ کے خلاف ہوتی ہے۔اور جب کوئی کام ناواقفیت کی حالت میں کیا جائے گا۔تو ضرور انسان غلطیوں میں مبتلاء ہو گا۔میں نے سنا ہے کسی جگہ کچھ زمیندار اس امر پر بحث کرتے ہوئے دیکھے گئے کہ قرآن کریم میں جو کہیں مومنون آتا ہے اور کہیں مومنین - تو ان دونوں لفظوں کے معنوں میں کیا فرق ہے۔بڑی سخت بحث ہو ئی اور مختلف معانی بیان ہوتے رہے۔کوئی کچھ فرق بتا تا اور کوئی کچھ۔اور یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ صرف اس لئے کہ انہوں نے یہ معلوم نہ کیا کہ مؤمنون اور مومنین ان دونوں لفظوں کے کیا معنی ہیں اگر کسی واقف سے معنی دریافت کر لیتے تو ساری بحث کا خاتمہ ہو جاتا۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ بحث شروع ہی نہ ہوتی۔اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرنے