انوارالعلوم (جلد 2) — Page 468
۴۶۸ والے لوگ پہلے اس بات کی تحقیقات کرتے کہ نبی کہتے کسے ہیں؟ اور نبی کے کیا معنی ہیں۔لغت عرب میں اس کے کیا معنی ہیں؟ قرآن کریم نے اس کے کیا معنی کئے ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے اس کے کیا معنی کے ہیں ؟ تو میں امید کرتا ہوں۔وہ ہمیں حق پرپاتے اور یہ جھگڑاہی چھوڑ دیتے۔عربی زبان کی یہ ایک خصوصیت ہے کہ اس میں تمام اسماء کی کوئی وجہ تسمیہ ہوتی ہے اور بے معنی الفاظ استعمال نہیں کئے جاتے۔اور یہی خصوصیت ہے۔جس نے عربی زبان کورو سری زبانوں پر ممتاز کر دیا ہے۔اور اس کے ام الا لسنہ ہونے پر شاہد ہے پھر وہ الفاظ جو قرآن کریم میں استعمال کیے جاتے ہیں۔وو توافصح ہیں کیونکہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ عربی کی کوئی اور کتاب نہیں کرسکتی۔اور یہ قرآن کریم کا ایک معجزہ ہے قرآن کی تمام آیات فصاحت و بلاغت کا خزانہ ہیں۔اور اس کے تمام الفاظ فصاحت کا بہترین نمونہ۔پس نبی کا لفظ جو عربی جیسی زبان کا لفظ ہے۔اور قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے بے معنی نہیں ہو سکتا۔اور ہم قرآن کریم کی نسبت کبھی یہ گمان نہیں کر سکتے کہ اس نے ایک ایسا لفظ استعمال کیا ہے جس کی حقیقت سمجھنے سے دنیا معذور ہے۔اور جس کے معانی کا علم کسی کو بھی نہیں۔نبی کا لفظ ضرور کوئی معنی رکھتا ہے اور اسکی کوئی حقیقت ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ وہ کیا معنی ہیں؟ اور وہ کیا حقیقت ہے ؟ کیا حضرت مسیح موعود کی نبوت کے منکروں نے کبھی اس سوال پر بھی غور کیا ہے۔کیا ہم یہ سمجھیں کہ وہ نبی اور رسول کا لفظ قرآن کریم میں سینکڑوں جگہ پڑھتے ہیں۔لیکن اس پر غور کئے بغیر گذر جاتے ہیں اسے ایک بے معنی لفظ خیال کرتے ہیں جس سے کوئی حقیقت مراد نہیں۔اگر ایسا نہیں تو وہ ہمیں بتائیں کہ قرآن کریم نے ان دونوں لفظوں کے کیا معنی بتائے ہیں؟ اور نبی اور رسول سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے؟ قرآن شریف دنیا کی آخری کتاب ہے۔اور کل علوم روحانی اس کے اندر جمع ہیں۔وہ ایک ایسا خزانہ ہے جس میں ہر ضرورت کی شے موجود ہے۔دنیا کی کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔وہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور آخری کتاب ہے۔وہ بنی نوع انسان کے لئے ایک ہدایت نامہ ہے۔انسان کی روحانی ترقی اور دینی علم کے لئے کس شئے کی ضرورت ہے جو قرآن کریم میں موجود نہیں۔وہ ہماری تمام حاجتوں کا پورا کرنے والا اور ہماری سب بیماریوں کا دور کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے کتاب مفصل اور کتاب مبارک فرماتا ہے۔اور مبارک کے معنی ہیں جو سب اشیاء کو اپنے اندر جمع کرے اور کل علوم بہہ کر اس میں آپڑیں۔پس ایسی کتاب پر یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ اس نے نبی پر ایمان لانے کا توحکم دیامگر یہ نہ بتایا کہ نبی کہتے کسے ہیں؟ قرآن کریم نے نبی کی تعریف ضرور کی ہوگی۔اور کی ہے پس پہلے اسے دریافت