انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 455

۴۵۵ نبوت پانے سے کیا ہے کیونکہ آپ کے خیال میں اس وقت نبی کے یہی معنی تھے پس یہ نہ دیکھا جائے گا کہ آپ نے لفظ نبی سے انکار کیا ہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ نبی کے لفظ کے کیامعنی سمجھ کر اس سے انکار کیا ہے اور جن معنوں کے رو سے آپ نے انکار کیا ہے انہی معنوں تک آپ کا انکار محدود رکھنا ہوگا اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس وقت تک آپ نبی کے معنی یہی خیال کرتے تھے کہ جو شریعت جديده لاۓ یا براہ راست ثبوت پائے مگر بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوا کہ یہ معنی درست نہیں اور یہ باتیں نبوت کے لئے شرائط ہیں۔نبی کے لئے اور شرائط ہیں اور وہ آپ میں پائی جاتی ہیں۔غرض کہ اے عزیزو! یہ وہ سبب ہے جس کی وجہ سے حضرت صاحب کی مختلف تحریروں میں اختلاف معلوم ہوتا ہے اور جسے دیکھ کر ہماری جماعت کے ہی بعض لوگوں کو ٹھوکر لگ گئی ہے لیکن در حقیقت یہ نزاع لفظی ہے۔اور انہوں نے نہیں دیکھا کہ جب حضرت مسیح موعود ؑنے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اس وقت آپ کے ذہن میں نبی کے کیا معنی تھے۔اور پھر اس پر غور نہیں کیا کہ آپ کی بعد کی تحریرات سے ثابت ہے کہ اسلامی اصطلاح اور قرآن کریم کی اصطلاح کے رو سے نبوت کی تعریف اور ہے اور یہ کہ اس تعریف کے رو سے آپ نبی تھے میں مانتا ہوں کہ پہلی تعریف کو بھی آپ نے اسلامی اصطلاح کہا ہے لیکن اس کے ساتھ قرآن کریم سے کوئی دلیل نہیں دی مگر بعد میں جو تعریف کی اس کے لئے قرآن کریم سے استدلال کیا اور فرمایا کہ خدا کے حکم کے مطابق میں اس کا نام نبوت رکھتا ہوں۔پس اس تعریف نے پہلی تعریف کو بدلا دیا اور ۱۹۰۱ء سے پہلے جس قدر تحر یرات سے نبی ہونے کا انکار پایا جاتا تھا ان کے معنی بھی بدل دینے اور اس کے صرف یہ معنی رہ گئے کہ آپ نے شریعت جدیده لانے یا براہ راست نبوت پانے سے انکار کیا ہے پس اب بھی چاہئے کہ دانا انسان اس امر پر غور کریں اور اس نکتہ کو سمجھیں اور اپنی آخرت کی سنوار کی فکر کریں اور اللہ تعالیٰ کے مامور اور مرسل کی ہتک سے باز آئیں کہ اس کا نتیجہ نہایت برا ہوتا ہے جس طرح افراد بری ہے تفريط بھی بری ہے جسے خدا نے نبی قرار دیا اس کے نبی ہونے سے انکار نہ کریں کہ یہ خدا کا مقابلہ ہے بیشک بعض تحریرات میں انہیں اختلاف نظر آتا ہے۔لیکن وہ غور کر کے دیکھ لیں کہ وہ اختلاف صرف نبی کی تعریف کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے اور جبکہ خود حضرت مسیح موعود ؑنے نبی