انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 442

۴۷۲ مطابق ضروری ہوں۔اگر ان میں سے جس کا حضرت مسیح موعود انکار کر دیں اور کہیں کہ یہ میرے اندر نہیں ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ نبی بھی نہیں ہیں۔جو باتیں نبی ہونے کے لئےضروری ہیں حضرت مسیح موعودان کا دعویٰ شروع سے آخر تک برابر کرتے رہے ہیں اور اس کے خلاف کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت صاحب نے کہیں لکھا ہو کہ : ۱- مجھے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع نہیں دی جاتی۔- جن امور کی مجھے اطلاع دی جاتی ہے وہ معمولی باتیں ہوتی ہیں نہ تبشیر و انذار کے متعلق۔٣- خدا تعالیٰ نے مجھے نبی کے لفظ سے کبھی نہیں پکارا۔مگر میں یقیناً کہتا ہوں کہ یہ بات کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا۔اور خواہ ۱۹۰۱ء کے بعد کی کتب ہوں یا پہلے کی۔کسی میں بھی ان باتوں سے انکار نہیں بلکہ ان باتوں کے پائے جانے کا دعوی ٰہے۔اور نبی اسی کو کہتے ہیں جس میں یہ باتیں پائی جائیں۔میں آخر میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دینا چاہتا ہوں کہ میری اس تحریر ہے کہ بعض انبیاء میں جو خصوصیات ہوتی ہیں۔ضروری نہیں کہ وہ سرے انبیاء میں بھی پائی جائیں کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ انعامات نبوت بھی نبیوں سے جدا ہو سکتے ہیں۔مثلاً یہ انعام کہ ہرنبی اپنے زمانہ کے لوگوں کا مطاع ہو۔یا یہ کہ اس کے منکر اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دور کئے جائیں۔یہ انعامات نبوت ہیں۔خصوصیات انبیاء سے نہیں ہیں۔اور ضروری ہے کہ ہر ایک شخص جب نبی بنے۔تو ان انعامات کا مستحق ہو اور شرعی نبی ہونا یا بلا واسطہ نبوت پانا انعامات نبوت میں سے نہیں۔کیونکہ بعض نبی شریعت نہیں بھی لاتے۔جو ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ انعام نبوت نہیں ورنہ سب کو ملتا۔اور بلاواسط نبوت پانا اس لئے انعامات نبوت میں سے نہیں ہے کہ انجام کیا شئے کا اس کے حاصل ہونے کے بعد ملتا ہے۔اور بلا واسطہ نبوت کا پانا یا نہ پانا تو نبوت کے ملنے کے وقت کا کام ہے اس لئے انعام نبوت نہیں کہلا سکتا۔نبوت کے متعلق اختلافات کا اصل سبب اب میں یہ بات ثابت کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود ؑنے کتاب تریاق القلوب لکھنے کے بعد اپنے نبی ہونے کے متعلق ایک تبدیلی فرمائی ہے۔اور یہ کہ جون کے پرچہ ریویو میں جو مضمون ہے و تریاق القلوب کی تحریر کا ناسخ ہے اور اس کے بعد میں نے نبی کی تعریف از روئے قرآن کریم و