انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 400

ہوتے ہیں دوسرے لوگوں کی موجب خطره و نقصان ہے اس لئے اس نقصان کو روکنے کے لئے ضروری تھا کہ نبی ہو جس کو خوداللہ تعالی ٰنبی قراردے ورنہ انسانوں کا کام نہیں کہ آپ ہی کسی کو نبی قرار دیں۔نبوت ایک مرہبت الہٰی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے کہ کسی شخص کو میں نے امور غیبیہ پر اس قدر اطلاع دی ہے یا نہیں کہ وہ نبی کہلا سکے اور یہ کہ ایک خبر دینے والے کی اخبار ایسی مہتم بالشان ہیں یا نہیں کہ ان کی وجہ سے اسے نبی کہہ سکیں۔پس جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں گی وہی ہوتا ہے اور وہی ہو سکتا ہے جو اپنے امور غیبیہ پر کثرت سے مطلع کیا جائے۔جو خاص اہمیت اور عظمت رکھتے ہوں اور جس کا نام خود اللہ تعالی نبی رکھے۔قرآن کریم کا جب ہم غور سے مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بھی ہمیں نبی کی یہی تعریف معلوم ہوتی ہے چنانچہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وما نرسل المرسلین الا مبشرین و منذرین (لانعام :۴۹) یعنی رسول جو ہم بھیجتے ہیں تو ان کا یہ کام ہو تا ہے کہ بعض افراد اور جماعتوں کے لئےخوشخبریاں دیتے ہیں اور بعض کو ڈراتے ہیں لیکن ان کی اخبار معمولی نہیں ہوتیں بلکہ ایک قوم کی ترقی اور ایک دوسری قوم کی تباہی کی خبر لے کر وہ آتے ہیں اسی طرح کثرت مکالمہ و مخاطبہ کی نسبت فرمایا ہے کہ فلايظهر على غيبہ الا من ارتضی من رسول (الجن :۲۷۔۲۶ یعنی الله تعالیٰ صرف ان لوگوں کو جن سے خوش ہوتا ہے یعنی رسولوں کو اپنے غیب پر غالب کرتا ہے یعنی امور غیبیہ اس کثرت سے ان پر ظاہر فرماتا ہے کہ گویا انہیں غیب پر غالب کر دیتا ہے۔غرض کہ قرآن کریم نے بھی نبی الله کی وہی تعریف کی ہے جو لغت کے رو سے ثابت ہے۔نبی کی تعریف کرنے کے بعد میں ہر ایک اس شخص کی توجہ جو حق طلبی کامادہ اپنے اندر رکھتا ہے اس طرف پھیرتا ہوں کہ قرآن کریم میں اور قرآن کریم سے پہلے دیگر کتب میں نبی کا لفظ بہت دفعہ استعمال ہوا ہے اور ایک جگہ بھی ایسی نہیں کہ جہاں نبی کے ساتھ کوئی اور لفظ ملا کر لکھا گیا ہو بلکہ قرآن کریم ہمیشہ نبی کا لفظ خالی ہی استعمال کرتا ہے۔اور اسی طرح پہلے انبیاء بھی اس لفظ کو خالی ہی استعمال کرتے رہے ہیں اور پہلی کتب میں ایک جگہ بھی ایسی نہیں دیکھو گے کہ نبی کے ساتھ کوئی اور لفظ استعمال کیا گیا ہو۔پس قرآن کریم - احادیث رسول الله ﷺ اور دیگر کتب سماویہ کے محاورہ میں نبی ایک نام ہے جو بعض افراد بنی آدم کو خدا تعالی ٰکی طرف سے ملتا ہے۔لیکن جب ہم انبیاء کے حالات کو دیکھتے ہیں تو وہ مختلف اقسام کے پائے جاتے ہیں کہ جن سے اللہ تعالی نے بلا حجاب کلام کیا۔بعض دوسرے ایسے ہیں جن سے اس رنگ میں کلام نہیں ہوا۔پھر بعض ایسے ہیں جو