انوارالعلوم (جلد 2) — Page 259
۴۵۹ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا۔( العنکبوت:۷۰)کہ وہ لوگ جو ہمارے رستہ میں ہمارے متعلق اپنے نفس سے ہر وقت جہاد اور لڑائی کرتے ہیں اور بدی سے لڑتے ہیں ایسے لوگوں کو ہم اپنے تک پہنچنے والے راستوں پر پہنچائیں گے۔اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ یہاں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے سُبُلَنَا یعنی ہمارے رستے لیکن ایک جگہ فرمایا ہے وَاِنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً( الانعام :۱۵۴)یعنی صرف یہی ایک راستہ ہے جو مجھ تک سیدھا پہنچتا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ بہت سے راستے جھوٹے ہوتے ہیں لیکن سُبُلَنَا سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے بھی کئی راستے ہیں سو ان دونوں آیتوں میں یو ں تطبیق ہوتی ہے کہ ایک کے بعد دوسرا راستہ آجاتا ہے اور اس کے بعد تیسرا اورا س طرح بہت سے راستے بن جاتے ہیں ورنہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں بہت سے راستے نہیں ہیں۔ہاں چونکہ ایک کے بعد دوسرا راستہ ہے اس لئے ان راستوں کے طے کرنے کے لئے سخت محنت کی بھی ضرورت ہوگی تب تم جاکر منزل مقصود پر پہنچو گے۔پس اسی جہاد کرنے کی تمہیں ضرورت ہے۔اس کے لئے قرآن نے جو طریق بتائے ہیں وہ میں بیان کرتا ہوں۔(۱) نماز ہے۔پانچ وقت جو اﷲ تعالیٰ کا نا م لے کر اگر اس کی ذرا بھی نیت نیک ہو تو خدا اس کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔(۲) زکوٰۃ ہے جو شخص سال میں ایک دفعہ اپنے مال میں سے خدا کے حکم کے ماتحت کچھ نکالتا ہے اسکے اندر اس بات کا احساس رہتا ہے کہ وہ اپنا مال خدا وندتعالیٰ کے لئے قربان کر سکتا ہے۔(۳) روزہ ہے اس میں اپنے اوپر تکلیف اٹھا کر خدا تعالیٰ کی مرضی کو مقدم کرنے کا سبق ملتا ہے۔(۴) حج ہے اس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی مرضی کے لئے عزیزوں ،رشتہ داروں ،وطن ،مال و اسباب کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنا پڑے تو انسان چھوڑ سکے۔اﷲ تعالیٰ نے اس کے علاوہ اور علاج یہ بتایا ہے کہ قرآن کریم لوگوں کو ظلمتوں سے نکالتا ہے غفلت اور سستی تاریکی میں زیادہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ دن کو نیند کم آتی ہے۔قرآن شریف کے مطالعہ سے ایک بیداری اور ہوشیاری پیدا ہو جاتی ہے۔مگر اس کے مطالعہ کرنے میں بڑے غور اور تدبر کی بھی ضرورت ہے تا کہ ترجمہ کر نے میں انسان ٹھوکر نہ کھا جائے۔تم قرآن کریم کا ترجمہ کرنے میں ان باتوں کو یاد رکھو۔(۱) کسی آیت کے ایسے معنی نہ کرو جو دوسری آیتوں کے خلاف ہوں۔متشابہ آیات کو محکم کے ماتحت لا کر معنی کرنے چاہئیں۔(۲) کسی آیت کے ایسے معنی نہ کرو جو آنحضرت ﷺ کے بتائے ہوئے معنوں کے خلاف ہوں۔(۳) جو معنی لغت عرب کے خلاف ہوں وہ بھی نہ کرو۔(۴) جو معنی صرف و نحو کے خلاف ہوں وہ بھی نہ کرو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ