انوارالعلوم (جلد 2) — Page 221
۲۲۱ کر لے گا اور سخت تباہی کا موجب ہو جائے گا۔وہ نقص نماز باجماعت میں سستی کا ہے بے شک نماز با جماعت پڑھنے میں احمدیوں کو ایک دقت ہے اور وہ یہ کہ غیر احمدیوں کے پیچھے تو وہ نماز پڑھ نہیں سکتے اور بعض جگہ احمدی صرف ایک ہی ہوتا ہے اس لئے اسے نماز با جماعت ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا اور چونکہ نمازبا جماعت ادا کرنے میں انسان کو وقت کی پابندی کرنی پڑتی ہے جب نماز با جماعت نہ ملے تو رفتہ رفتہ انسان سستی کرنی شروع کر دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں نے جماعت کے ساتھ تو نماز پڑھنی ہی نہیں جس وقت چاہوں گا پڑھ لوں گا اس طرح وہ وقت کی پابندی نہیں کرتا اور آخراول وقت نماز پڑھنے کی عادت جاتی رہتی ہے یا جمع کر کے نماز ادا کرنے کی عادت ہو جاتی ہے اور نماز باجماعت ادا کرنے سے تو ایسا غافل ہو جاتا ہے کہ اگر کہیں باجماعت نماز پڑھنے کا موقع مل بھی جائے تو بھی سستی کر دیتا ہے۔گو یہ عادت ایک مجبوری کی وجہ سے اسے پڑتی ہے لیکن احمدیوں میں ہرگزہرگز سستی نہ ہونی چاہئے۔جس وقت سستی پیدا ہوئی اسی وقت سے اس جماعت کی تباہی کا آغاز ہو جائے گا (نعوذ باﷲ من ذلک )پس جس گاؤں میں کوئی اکیلا احمدی ہے وہ کوشش کرے کہ دوسرا پیدا ہو جائے۔مجھے امید ہے کہ اگر اس طرح کوشش کرے گا تو خدا تعالیٰ ضرور اس کا ساتھی پید ا کر دے گا۔لیکن اگر دوسرا ساتھی نہ ہو تو دوسرے گاؤں میں جا کر جہاں کوئی احمدی ہو دوسرے تیسرے دن نماز باجماعت پڑھو اور سستی کی عادت نہ ڈالو۔اگر تم اس کو بھولے تو یاد رکھو کہ پھر تم ترقی نہیں کر سکو گے۔وہ احمدی جو بڑے بڑے شہروں میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے مکان تک ان کا جانا مشکل ہوتا ہے ان کے لئے یہ بات نہایت مشکل ہے کہ ہر نماز کے وقت ایک جگہ جمع ہو سکیں۔لیکن ان کو چاہئے کہ اپنے محلہ کے احمدی مل کر باجماعت نماز پڑھا کریں اور کبھی کبھی سارے اکٹھے ہو کر بھی پڑھیں سستی ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔یہ ایسی خطرناک بات ہے کہ اس کے نتائج بہت برے نکلتے ہیں مجھے قرآن شریف سے یہی معلوم ہوا ہے کہ جس کو نماز با جماعت پڑھنے کا موقع ملے اور وہ نہ پڑھے تو اس کی نماز ہی نہیں ہوتی۔حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہی مذہب ہے۔آنحضرت ﷺ نے نماز با جماعت کے متعلق اتنی احتیاط فرمائی ہے کہ جس کا بیان ہی نہیں ہو سکتا۔ایک دفعہ ایک اندھا آپ ؐ کے حضور حاضر ہوا۔اور اس نے عرض کی کہ یا رسول اﷲ مجھے مسجد میں آتے ہوئے سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں جو میرا ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے اگر مجھے اجازت ہو تو میں گھر میں ہی نماز پڑھ لیا کرو ں۔آپ ؐ نے فرمایا بہت