انوارالعلوم (جلد 2) — Page 207
کی چیزوں کا ضرور بائیکاٹ کر دینا چاہئے۔میں نے کہا ہم ایک کے بائیکاٹ سے فارغ ہو لیں گے تو پھر اور کسی کا بھی بائیکاٹ کر لیں گے۔اس نے کہا کہ آپ کس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔میں نے کہا شیطان کا۔سارے ملکوں پر شیطان کی حکومت ہے اور یہ ہمارے حقوق دن بدن دبائے جا رہا ہے اور روز بروز ہمیں کمزور کر رہا ہے۔کیا تمہیں اس کے بائیکاٹ کا فکر نہیں۔ہم تو جب اس کا بائیکاٹ کر لیں گے تو پھر اوروں کا دیکھا جائے گا۔آج کل اسلام پر سخت مصیبت کے دن آئے ہوئے ہیں۔اور شیطان اس کو کمزور کر رہا ہے۔مگر تمہیں اس کا تو کوئی فکر نہیں۔لیکن آسٹریا کے مال کابائیکاٹ کرنے میں لگے ہوئے ہو۔یہ سن کر وہ شرمندہ سا ہو کر چپ ہو گیا۔واقعہ میں جو دنیا چاہتا ہے وہ سیاست میں دخل دے اور سلطنتوں کے مالوں کا بائیکاٹ کرتا پھرے۔لیکن جو اسلام سے محبت رکھتا ہے اسے شیطان سے بڑھ کر اور کس کے بائیکاٹ کا فکر ہوگا۔پس اگر ہمارے بیوی ،بچے،دوست،آشنا مال و دولت ،آرام و آسائش بلکہ سب کچھ بھی قربان ہو کر اسلام کو ترقی نصیب ہو تو یہ ہماری عین مراداور دل کی خوشی ہے یہ جماعت احمدیہ اسلام کی ضرورت کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔پھر اگر ہم پہ تھوڑے سے آدمی بھی سیاست میں لگ جائیں تو اور کون ہوگا جو اسلام کی خدمت کرے گا۔ان لوگوں کو جانے دو جو سیاست میں پڑتے ہیں۔اور تم دین اسلام کی خدمت میں لگے رہو۔کامیابی کا گُر:قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے تمہاری کامیابی کا ایک گر بتایا ہے اور وہ یہ کہ ’’ وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعاً مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ۔لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجاً مِّنْھُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَا خْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘‘(الحجر :۸۸،۸۹) آنحضرت ﷺ کی حیثیت کے مطابق تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اے ہمارے رسول !ہم نے تم کو سات آیتوں والی ایک سورۃ دی ہے جو کہ بار بار پڑھی جاتی ہے (اسی کی یہ دوسری صفت بیان فرمائی ہے کہ)یہ قرآن عظیم کاحصہ ہے۔یا اس کے یہ معنی ہیں کہ سورہ فاتحہ اور قرآن عظیم دیا ہے۔اﷲ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ یہ نعمت چونکہ تمہیں ملی ہے اور توبخیل نہیں ہے بلکہ بڑا سخی ہے اس لئے تیرا دل چاہتا ہے کہ اوروں کو بھی یہی ملے مگر وہ احمق اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس کے لینے کی کوشش نہیں کرتے اور تجھے ان کی اس بات پر افسوس آتا ہے اور تو ان کی طرف حسرت سے دیکھتا ہے کہ یہ کیوں اس سے حصہ نہیں لیتے مگر تجھے چاہئے کہ ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھ اور جو پاک جماعت ہم نے تجھے دی ہے اس کی تربیت میں لگ جاؤ۔ان کفار کی