انوارالعلوم (جلد 2) — Page 149
۱۴۹ صریح دلیل اس بات پر ہے کہ سلطنت روم کے اچھے دن نہیں ہیں اور پھر اس کا بدگوئی کے ساتھ واپس جانا ہے اور دلیل ہے کہ زوال کی علامات موجود ہیں‘‘۔تین سطرآگے لکھتے ہیں کہ’’ میں نے یہ بھی اس کو کہا کہ خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گاوہ کاٹا جائے گا۔بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تمام باتیں تیر کی طرح اس کو لگتی تھیں اور میں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ خدا نے الہام کے ذریعہ فرمایا تھا وہی کہا تھا‘‘۔پھر اس امر کے متعلق کہ ترکی حکومت سے سلسلہ احمدیہ کی بجائے فائدہ کے نقصان ہے تحریر فرماتے ہیں کہ ”اور پھر ان تمام باتوں کے بعد گورنمنٹ برطانیہ کا بھی ذکر آیا اور جیسا کہ میرا قدیم سے عقیدہ ہے میں نے اس کو بار بار کہا کہ ہم اس گورنمنٹ سے دلی اخلاص رکھتے ہیں اور دلی وفادار اور دلی شکر گزار ہیں کیونکہ اس کے زیر سایہ اس قدر امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں کہ کسی دوسری سلطنت کے نیچے ہرگز امید نہیں کہ وہ امن حاصل ہو سکے۔کیا میں اسلام بول (استنبول )میں امن کے ساتھ اس دعوے کو پھیلا سکتا ہوں کہ میں مسیح موعورداور مہدی موعودہوں اور یہ کہ تلوار چلانے کی سب روایتیں جھوٹ ہیں کیا یہ سن کر اس جگہ کے درندے مولوی اور قاضی حملہ نہیں کریں گے۔اور کیا سلطانی انتظام بھی تقاضا نہیں کرے گا کہ ان کی مرضی کو مقدم رکھا جائے پھر سلطان روم سے کیا فائدہ‘‘۔اسی طرح اس کے انجام کی نسبت تحریر فرماتے ہیں کہ ”سلطان روم کی سلطنت کی حالت اچھی نہیں ہے اور میں کئی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں"۔اسی معاملہ کے متعلق ایک دوسرے اشتہار میں تحریر فرماتے ہیں ” سلطان کا خليفة المؤمنین ہو نا صرف اپنے منہ کادعوی ہے۔لیکن وہ خلافت جس کا آج سے سترہ بر س پہلے براہین احمد یہ اور نیز ازالہ اوہام میں ذکر ہے حقیقی خلافت و ہی ہے کیاوه الہام یاد نہیں؟ اردت ان استخلف فخلقت اٰدم۔خَلِیْفَۃَ اللّٰہِ السُّلْطَانَ۔ہاں ہماری خلافت روحانی ہے اور آسمانی ہے۔نہ زمینی ‘‘پھراسی اشتہار کے آخر میں انگریزی گورنمنٹ کی تعریف کی نسبت تحریر فرماتے ہیں ”رہی یہ بات کہ اشتہارمذ کور میں انگریزی سلطنت کی تعریف کی گئی ہے۔سو یاد رہے کہ یہ ہرگز منافقانہ تعریف نہیں لعنة اللہ علیٰ من نافق۔بلکہ ہم سچے دل سے کہتے ہیں اور صحیح صحیح کہتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم نے بہت امن پایا ہے۔اس لئے اس کا شکر ہم پر واجب ہے۔اور مجھے ان شریر انسانوں کی حالت پر نہایت تعجب ہے کہ اب تک وہ اس بات کو نہیں ہے کہ جزاء احسان احسان ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ۔