انوارالعلوم (جلد 2) — Page 134
۱۳۴ دنیاوی حکومت میں سب سے زیادہ اس مجرم پر ناراض ہوتی ہیں جو جھوٹا عہده دار بن جاتا ہے اور پبلک کو دھوکا دے کرلوٹتا ہے۔ایسا شخص کبھی بے سزا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ اسے فور اًپکڑا جا تا ہے اور جناب تو اس مسئلہ کو دوسروں کی نسبت زیادہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جھو ٹا حاکم بن جائے اوراس کی خبر نہ رکھی جائے تو حکومت کے سب کل پر زے کس طرح ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور کیو نکرسب انتظام حکومت درہم برہم ہو جاتا ہے پس عقل سلیم بھی کبھی اجازت نہیں دیتی کہ ایک مفتری کو اس قدر عرصہ تک مہلت دی جائے کہ الہامات کے شائع کرنے کے بعد وہ آنحضرت ﷺسے بھی زیاده عمرپا جائے پس حضرت مرزا صاحبؑ کا اس قدر طویل عرصہ تک زندہ رہنا بھی اسی طرح آپ کی سچائی کی دلیل ہے جیسے کہ آیت لو تقول ہمارے آنحضرت ﷺکے صدق دعویٰ پر دلیل تھی۔اس کے بعد میں ایک اور عظیم الشان نشان کی طرف جناب کی توجہ کو منعطف کراتا ہوں جو حضرت مسیح موعود ؑکے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کیا ہے اور وہ ایسانشان ہے کہ جس کے بعد آپ کی صداقت میں کسی کو شک کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔سوا اس کے جسکی نسبت درگاه ایزدی سے شقاوت کا فیصلہ ہو چکا ہو اور وہ یہ ہے کہ آپ کے ہاتھ سے اللہ تعالی ٰنے وہ کام پورا کر دیا ہے جس کے لئے آپ بھیجے گئے تھے دین اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کرنا۔اکثر علماء اس بات پر متفق ہیں کہ آیت کریمہ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (الصف : ۱۰) مسیح موعود ؑکے زمانہ میں پوری ہوگی پس مسیح کا اصل کام اسلام کو مضبوط کرنا اور اسے دوسرے ادیان پر غالب کرنا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کام حضرت مسیح موعود ؑکے ہاتھ سے پورا ہوا ہے یا نہیں۔اگر پورا ہو گیا ہے تو آپ وہی مسیح موعود ؑہیں اور اگر پورا نہیں ہوا تو ہمیں کسی اور مسیح کی انتظار کرنی چاہیے لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالی ٰنے اسلام کو سب ادیان پر غالب کر دیا ہے تو پھر ہر ایک قدامت پسند انسان کافرض ہے کہ حق کو قبول کرنے اور مسیح موعود ؑکے دامن کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرے۔قبل اس کے کہ میں اس امر کو تفصیل کے ساتھ بیان کروں۔یہ بیان کردینا ضروری سمجھتاہوں کہ انبیاء و مامورین صرف ایک بیج بو کردنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں او روہ بیج ان کے بعد ترقی کرکے بہت بڑھ جاتا ہے اور اس کی شاخیں پھیل جاتی ہیں اور اس کی جڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں مثلاً حضرت مسیح ؑناصری جب دنیا میں تشریف لائے تو صرف چند آدمیوں نے ان کو مانا اور باقی قوم نے سخت