انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 489

انوار العلوم جلد 26 489 افتتاحی و اختتامی خط سالانہ 1959ء۔عیسائیوں اور مشرکوں کے تابع تھے۔ہمیں خدا نے ہمت اور توفیق بخشی کہ ہم نے خدائے پاک کا نام اور اس کی سچی تعلیم دنیا میں پھیلائی اور ہزاروں لاکھوں عیسائیوں اور ہندوؤں کو کھینچ کر اسلام کی طرف لے آئے۔یہ محض خدا تعالیٰ کا احسان تھا ورنہ ہماری مقدرت نہ تھی کہ ایسا کر سکتے۔اے خدا کے مقدس رسول ! جس طرح خدا تعالیٰ کی بادشاہت آسمان پر ہے اُسی طرح ہم نے تیری دعاؤں کی برکت سے اور تیرے دل کے درد کی برکت سے اُس کو دنیا میں قائم کیا اور اب ساری دنیا شرک سے منتظر اور توحید کامل کی عاشق ہے۔ہم تجھ سے صرف اتنا چاہتے ہیں کہ تو اپنے خدا سے یہ عرض کر کہ ان غریب اور کمزور بندوں نے تیرے اور میرے نام کو دنیا میں قائم کیا اور سچائی کی طرف لوگوں کو کھینچ لائے اب تو بھی ان کو بخش دے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرما۔اگر کمزور اور نا طاقت ہوتے ہوئے انہوں نے اتنی بڑی قربانی کی ہے تو اے خدا! تو تو غفور و رحیم اور طاقتور خدا ہے تو ان کو کیوں عزت نہیں بخش سکتا۔تیری شان یہی ہے اور تیرا مقام یہی ہے اس سے تھوڑا دینا تیری شان کے خلاف ہے۔پس ان کی کوششوں کو بار آور کر اور انہیں رتبہ اور بڑائی بخش۔کیونکہ یہ تیری شان کے مطابق ہے اور ان کی خدمات کا یہی تقاضا ہے۔مسیح موعود کو تو نے اسی لئے مبعوث کیا تھا اور اس کی جماعت نے یہ کام کر کے دکھا دیا۔پس میرے تخت کے نیچے مسیح موعود کا تخت بچھا اور اس کو اور اس کے اتباع کو عزت بخش۔اگر ان لوگوں نے کمزور اور بے بس ہوتے ہوئے یہ قربانیاں کی ہیں تو اے خدا! تو رحمان اور رحیم ہوتے ہوئے اور قادر مطلق ہوتے ہوئے اس سے لاکھوں گنا زیادہ انعام انہیں کیوں نہیں دے سکتا۔یہ مقصد ہے جو ہماری جماعت کو ہمیشہ اپنے مد نظر رکھنا چاہئے اور اپنی نسلوں درنسلوں کو قیامت تک یہ فرض یاد دلاتے رہنا چاہئے۔اسی طرح آئندہ خلفاء کو بھی وصیت کرتا ہوں کہ جب تک دنیا کے چپہ چپہ میں اسلام نہ پھیل جائے اور دنیا کے تمام لوگ اسلام قبول نہ کرلیں اُس وقت تک اسلام کی تبلیغ میں وہ کبھی کو تا ہی سے کام نہ لیں۔خصوصاً اپنی اولاد کو میری یہ وصیت ہے کہ وہ قیامت تک