انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 488

انوار العلوم جلد 26 488 افتتاحی و اختتامی خط جلسہ سالانہ 1959 ء اپنی جماعت کی ترقی کے لئے تو کوشش کرو۔پھر آپ کو خدا تعالیٰ اس بات کی بھی توفیق عطا فرما دے گا کہ آپ تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے کام کریں۔میں نے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کا قیام اسی غرض کے لئے کیا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جہاں جہاں کام کر رہے ہیں لوگوں کے دلوں میں جماعت کی عزت بڑھ رہی ہے۔پس دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اتنا بڑھائے کہ دنیا کے تمام مذاہب کے پیرو اس کی عظمت کو تسلیم کرنے لگیں اور ہندوؤں اور سکھوں میں بھی اسلام پھیلنا شروع ہو جائے اور وہ بھی کثرت کے ساتھ اسلام میں داخل ہونے لگیں۔حضرت مسیح کے واقعہ صلیب پر 1959 سال گزر چکے ہیں اور عیسائیت اب تک پھیل رہی ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو مسیح کے استاد حضرت موسی سے بھی بڑے تھے ان کے ماننے والے بھی کم ہیں۔اگر آپ لوگ کمر ہمت کس لیں اور عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں کی طرف توجہ شروع کر دیں تو یقیناً امت محمدیہ اپنی کثرت تعداد میں امت عیسویہ اور امتِ موسو یہ دونوں سے بڑھ جائے گی۔تاریخ میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی اپنے ایک بھائی کے ساتھ آپ کے پاس آیا اور آپ سے گفتگو کرتا رہا۔جب وہ آپ سے باتیں کر کے واپس کو ٹا تو دوسرے بھائی نے اُس سے پوچھا کہ بتاؤ تمہارا اس کے متعلق کیا خیال ہے؟ وہ کہنے لگا یہ ہے تو وہی جس کی موسی نے خبر دی تھی مگر جب تک دم میں دم ہے ہم نے ماننا نہیں۔پس ضد کی اور بات ہے۔لیکن اگر خدا دلوں کو بدلنا چاہے تو بدل سکتا ہے۔سو تبلیغ بھی کرو اور دعائیں بھی کرو تا کہ جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں میں سے محض ضد کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے وہ بھی آپ کو ماننے لگ جائیں۔اسی طرح ہندوؤں اور سکھوں میں سے بھی جو لوگ ضد کی وجہ سے انکار پر مُصر ہیں وہ بھی سچائی کو ماننے لگ جائیں اور ہم قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہ سکیں کہ اے خدا کے مقدس رسول ! تیری لائی ہوئی تعلیم تو سب تعلیموں سے بہتر تھی مگر مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے عیسائیت دنیا میں غالب تھی۔اور تیرے ماننے والے