انوارالعلوم (جلد 26) — Page 449
انوار العلوم جلد 26 449 سیر روحانی (12) دوروں میں سے گزرا ہے اور کس طرح اس کا ارتقاء عمل میں آیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَحَمَلْنَهُ عَلَى ذَاتِ الْوَاحِ وَرُسُرِ 68 یعنی ہم نے نوح کو تختوں اور کیلوں سے بنی ہوئی کشتی پر سوار کیا۔اس آیت میں قرآن کریم نے کشتیوں کی ایک لمبی تاریخ کی طرف اشارہ کیا ہے۔چنا نچہ کشتیوں کی تاریخ بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں لوگ کشتیاں بنانا نہیں جانتے تھے وہ ایک بڑا سا درخت لے کر اُس کو درمیان سے کھود لیتے تھے اور اس گڑھے میں بیٹھ کر درخت کو پانی میں ڈال دیتے تھے۔اب تک بغداد میں ایسی کشتیاں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ پاکستان بننے سے قبل ایک ہندوستانی وہاں گیا تھا اُس نے اُس کشتی پر بہت مذاق اُڑایا اور کہا کہ چونکہ وہ کشتی نیچے سے گول ہوتی ہے اس لئے جب میں اُس پر بیٹھا تو ایک طرف حرکت کرنے سے دوسری طرف سے کشتی اُٹھ جاتی تھی اور چکر کھانے لگتی تھی۔اس پر میں نے اُس آدمی سے جو میرے ساتھ تھا کہا۔اے شیخ! میری کشتی تو چکر کھارہی ہے۔اُس نے سمجھا کہ یہ کہتا ہے اور چکر دو۔چنانچہ اُس نے کشتی کو اور چکر دینا شروع کر دیا اور جب کشتی کنارہ پر لگی تو میں بیہوش ہو کر گر پڑا۔ہوش آنے پر میں نے کہا تو نے تو بڑی حماقت کی ہے۔اُس نے کہا آپ نے تو خود ہی کہا تھا کہ کشتی کو اور چکر دو۔اس میں میرا کیا قصور ہے۔تو وہ کشتیاں اب بھی پائی جاتی ہیں۔پھر آہستہ آہستہ جو ترقی ہوئی تو تختوں والی کشتیاں بن گئیں۔اُس وقت سریش وغیرہ کے ساتھ تختوں کو جوڑا جاتا تھا۔لیکن وہ تختے بعض دفعہ کھل بھی جاتے تھے۔پھر کیل نکلے تو اُن کے ساتھ کشتیاں جوڑی جانے لگیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ تک تمدن اتنا ترقی کر چکا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی جماعت کو ایسی کشتی میں سوار کیا جو ذَاتِ الْوَاحِ قَدُسُرِ تھی۔گھرا ہوا درخت نہیں تھا بلکہ وہ کشتی با قاعدہ بنی ہوئی تھی اور اُس میں میخیں بھی لگی ہوئی تھیں۔غرض اس آیت میں قرآن کریم نے کشتیوں کی ایک لمبی تاریخ کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں کیلوں والی کشتیاں بنے لگی تھیں۔بیچ میں ایک ایسا زمانہ بھی آیا کہ گیلیوں 69 کو باندھ کر چلایا