انوارالعلوم (جلد 26) — Page 421
انوار العلوم جلد 26 421 سیر روحانی (12) 8 وَلَا يَوْدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ 20 فرماتا ہے اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا پرستش کا اور کوئی مستحق نہیں۔وہ اپنی ذات میں کامل حیات والا ہے اور دوسروں کو حیات عطا کرنے والا ہے اور اپنی ذات میں قائم اور ہر ایک چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔نہ اُسے اونگھ آتی ہے اور نہ وہ نیند کا محتاج ہے۔جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اُسی کا ہے۔کون ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُس کے حضور سفارش کرے؟ جو کچھ اُن کے سامنے ہے یعنی اُن کا مستقبل اور جو کچھ اُن کے پیچھے ہے یعنی اُن کی نظروں سے غائب ہے وہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی مرضی کے سوا اس کے علم کے کسی حصہ کو بھی نہیں پا سکتے۔اُس کا علم تمام زمین و آسمان پر حاوی ہے۔اور زمین و آسمان کی حفاظت اُس پر کوئی بوجھ نہیں بلکہ وہ نہایت آسانی کے ساتھ ان دونوں کا انتظام چلا رہا ہے۔اور وہ بڑی بلندشان رکھنے والا اور بڑی عظمت اور جبروت کا مالک ہے۔اب جس ہستی نے حسن کہہ کر ساری دنیا کو پیدا کیا ہو اور اُس پر نہ اونگھ آئے نہ نیند ، نہ زمین و آسمان کی حفاظت کا کام اُس کیلئے بوجھ ہو اُس کے لئے کسی تھکان کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ائشِ عالم کے متعلق قرآنی نظر یہ ایک دوسری جگہ اللہ تعلی پیدائش عالم پیدائش نظریہ متعلق فرماتا ہے انما امر إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ 2 یعنی اللہ تعالیٰ کا پیدائشِ عالم کے معاملہ میں یہ طریق ہے کہ جب وہ کسی چیز کے متعلق چاہتا ہے کہ ہو جائے تو وہ صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے اور ہوتی چلی جاتی ہے۔یہاں يَكُونُ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جو اپنے اندر استمرار کے معنے رکھتا ہے۔پس اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ حسن " کہتا ہے اور چیز تیار ہو جاتی ہے بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ ہوتی چلی جاتی ہے۔یعنی انسان کا طریق یہ ہے کہ جس چیز کو پیدا کرتا ہے محنت سے کرتا ہے اور اس میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ وہ جس چیز کو چاہے پیدا کر دے بلکہ یا تو وہ نمونہ دیکھ کر اُس جیسی چیز بناتا ہے اور یا بڑی محنت سے کوئی چیز ایجاد کرتا ہے۔پھر وہ جس چیز کو بناتا ہے وہ صرف ایک ہی ہوتی ہے۔اُس میں تناسل کا سلسلہ نہیں ہوتا۔لیکن خدا تعالیٰ بغیر نمونہ کے پیدا کرتا ہے اور پھر پیدا کرتا