انوارالعلوم (جلد 26) — Page 422
انوار العلوم جلد 26 422 سیر روحانی (12) چلا جاتا ہے۔مثلاً موٹر انسان کی پیدا کی ہوئی ہے مگر ابھی تک کسی نے نہیں سنا کہ موٹر نے کبھی بچہ دیا ہو۔اسی طرح ریل ہے یہ انسان کی ایجاد ہے مگر کسی نے نہیں سنا ہوگا کہ ریل نے بچہ دیا ہے اور اب ایک کی بجائے دس ریلیں بن گئی ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کی پیدائش دیکھ لو وہ ہوتی چلی جاتی ہے۔اُس نے صرف ایک آدم پیدا کیا تھا مگر اب اربوں آدمی موجود ہیں گویا اُس کی نسل پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔اسی طرح ایک مسیح اُس نے پیدا کیا مگر اب اور صحیح پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں اور قیامت تک ہوتے چلے جائیں گے۔اسی طرح ایک ابراہیم اس نے پیدا کیا تھا مگر اس کے بعد ابراہیم پر ابراہیم پیدا ہوتے چلے گئے اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کا ایک نام ” فَاطِر “ بھی آتا ہے۔فاطر کے معنے ہیں بغیر نمونہ کے پیدا کرنے والا۔چنانچہ حضرت ابن عباس فاطر کے معنے سے روایت ہے کہ كُنتُ لَا اَدْرِى مَا فَاطِرُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى أَتَانِي أَعْرَابِيَّانِ يَخْتَصِمَانِ فِي بِئْرٍ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا أَنَافَطَرُ تُهَا أَيْ إِبْتَدَأْتُهَا 10 یعنی میں قرآن کریم میں فاطر کا لفظ پڑھا کرتا تھا لیکن مجھے پتا نہیں چلتا تھا کہ فاطر کیا ہوتا ہے یعنی جب خالق کہہ دیا تو پھر فاطر کیا ہوا۔یہاں تک کہ ایک دن میرے پاس دو اعرابی آئے جو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ایک کہہ رہا تھا میرا کنواں ہے اور دوسرا کہہ رہا تھا یہ میرا کنواں ہے۔اُن میں سے ایک نے کہا میں نے اسے فطر کیا تھا۔اور اس سے مراد یہ تھی کہ میں نے اسے پہلے کھودا تھا۔بعد میں اس نے قبضہ کر لیا۔اُس دن مجھے فاطر کے حقیقی معنوں کا علم ہوا اور میں سمجھ گیا کہ فاطر اس کو کہتے ہیں جو نئے سرے سے ایجاد کرے اور بغیر نمونہ کے ایجاد کرے۔اور اعرابی کا یہ کہنا کہ آنَا فَطَرْتُهَا “ اِس کے معنے یہ تھے کہ پہلے اس علاقہ میں کوئی کنواں نہیں تھا۔پہلے پہل میں نے ہی کنواں کھودا تھا۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس اعرابی کے استعمال کی وجہ سے مجھے ”فاطر“ کے معنے سمجھ آئے اور مجھے معلوم ہوا کہ اس کے معنے ابتدا کرنے کے ہیں پس كُنْ فَيَكُونُ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جن چیزوں کو پیدا کرتا ہے اُن میں تناسل کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اس قسم کی اور چیزیں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہ ختم نہیں ہو جاتیں۔مثلاً