انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 341

انوار العلوم جلد 26 341 سیر روحانی (11) اُس زمانہ میں آپ کپورتھلہ میں تھے اور تنخواہیں بہت کم ملا کرتی تھیں۔شروع میں نائب تحصیلدار کی پندرہ روپے تنخواہ ہوتی تھی مگر اس کے باوجود وہ ہمیشہ ہر اتوار کو قادیان آتے اور روپیہ دور و پے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نذرانہ دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جب وہ آئے تو اُس وقت وہ تحصیلدار ہو چکے تھے اور تنخواہیں بھی زیادہ ہوگئی تھیں۔میں نے دیکھا کہ تین یا چار اشرفیاں انہوں نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھیں۔انہوں نے وہ اشرفیاں میرے ہاتھ پر رکھیں اور پھر چیخیں مار کر رونے لگ گئے۔میں حیران ہوا کہ یہ روتے کیوں ہیں۔مگر جب روتے روتے ذرا ہوش آئی تو کہنے لگے کہ ”ساری عمر خواہش رہی کہ میں اونہاں دے ہتھ وچ سوناں رکھاں پر کدی توفیق نہ ملی۔جدوں کچھ پیسے جمع ہوندے سن میں پیدل چل کے کپورتھلہ توں اونہاں نوں دیکھن آجاندا ساں یاں ریل وچ آندا ساں تاں کرایہ لگدا سی۔پر جدوں سونا ملیا ہے تے اوہ بہن نہیں۔66 اُن کا یہ فقرہ ایسا دردناک تھا کہ مجھ پر بھی رقت آ گئی۔میں نے اُن کو چُپ کرانے کیلئے انہیں تسلی دینے کی کوشش کی مگر اُن کی جو مذبوح حرکت تھی اُس کو دیکھتے ہوئے در حقیقت میری کوشش بالکل بے کار اور بے سود تھی۔یہ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ کا ایک نظارہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُن لوگوں میں سے تھے جولوگوں سے مانگتے نہیں تھے اور ایسے لوگ بھی محروم ہی ہوتے ہیں۔مگر انہیں ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں نذرانہ پیش کریں اور خواہش بھی یہ تھی کہ سونا دیں مگر کہنے لگے۔’ جدوں جیندے سن تے سونا نہیں ہتھ آیا۔سونا ہتھ آیا تے اوہ ہن نہیں۔ہن میں کی کراں۔“ یعنی جب آپ زندہ تھے تو مجھے سونا میسر نہ آیا اور جب سونا ملا تو آپ فوت ہو چکے ہیں۔اب میں کروں تو کیا کروں۔پھر میں نے بتایا ہے کہ یہ لنگر اسلام میں جانوروں کے حقوق کا تحفظ انسانوں سے لے کر جانوروں