انوارالعلوم (جلد 26) — Page 340
انوار العلوم جلد 26 340 سیر روحانی (11) پھر قرآنی لنگر کی ایک اور مثال سورۃ قرآنی لنگر کا ایک اور شاندار منظر الذریت سے ملتی ہے۔اللہ تعالی اس میں - کامل مومنوں یعنی اتباع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ وَفِ أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ - 32 یعنی ان کے مالوں میں ایسے لوگوں کا بھی حق ہے جو مانگ سکتے ہیں اور اُن کا بھی حق ہے جو نہیں مانگ سکتے۔یعنی یا تو وہ گونگے ہیں یا ان کو مانگتے ہوئے شرم آتی ہے کہ ہمارا اس سے غریب ہونا ظاہر ہوتا ہے اور یا جانور ہیں کہ وہ مانگنے اور بولنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لنگر اتنا وسیع ہے کہ سائل اور غیر سائل سب اس سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔بادشاہوں کے لنگر تو ایسے تھے کہ لوگ اُن لنگروں میں جا کر روٹی مانگتے تھے تو پھر انہیں روٹی ملتی تھی اور اگر کوئی پرے کھڑا ہو جاتا تو اس کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا۔مگر یہاں محمد رسول اللہ کے لنگر کے متعلق فرماتا ہے کہ آپ کے متبعین کے ذریعہ سے جو لنگر جاری کیا گیا ہے اُس میں اُن لوگوں کا بھی حق رکھا گیا ہے جو کہ بول سکتے ہیں اور اُن لوگوں کا بھی حق رکھا گیا ہے جو بول نہیں سکتے۔یعنی بولنے سے بالکل محروم ہیں یا شرم کے مارے نہیں بولتے کہ ہماری کمزوری اور غربت لوگوں پر ظاہر ہوگی۔اور جانوروں کا بھی حق رکھا گیا ہے۔اب دیکھو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لنگر کتنا وسیع ہے اور بادشاہوںکا لنگر کتنا محدود ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور آپ کے تمام اتباع کے اموال میں خدا تعالیٰ نے سائل اور محروم سب کا حق رکھا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ مسلمان آجکل اپنی عملی کمزوری کی وجہ سے اس آیت پر عمل نہ کریں مگر قرآن نے اس کی ہدایت دے دی ہے اور جو سچا مسلمان ہو گا وہ ضرور اس پر عمل کرے گا۔جھوٹے کا تو سوال ہی نہیں ، جھوٹا تو خود ہی اپنی عاقبت خراب کرتا ہے۔منشی اروڑے خاں صاحب کے مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ایک دن میاں اخلاص کی ایک دردانگیز مثال اروزے خان صاحب جو حضرت مسیح موجود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت ہی مقرب صحابی تھے اور نائب تحصیلدار تھے قادیان آئے۔