انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 338

انوار العلوم جلد 26 338 سیر روحانی (11) محروم کر دیا کیونکہ وہ اُن کے مسلک سے باہر ہو گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلک کے تابع ہو گئے۔غرض ایسی ہزاروں مثالیں ملتی ہیں جن کے ذریعہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں روحانی اولا د چلتی چلی جاتی ہے اور معنوی طور پر اُن کے عقیقے ہوتے رہتے ہیں یعنی اسلام خوشیاں مناتا ہے اور قرآنی لنگر سے دنیا فائدہ اٹھاتی رہتی ہے۔رؤسائے مکہ کے بیٹوں پر حضرت عمرؓ اس کی ایک اور شاندار مثال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک حج کا واقعہ کا غلام صحابہ کو ترجیح دینا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہو گئے اور آپ حج کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کو حج کی مبارکباد دینے کیلئے بعد میں کچھ لوگ آئے جن میں مکہ کے رؤساء کے لڑکے بھی شامل تھے۔حضرت عمرؓ نے ان کا مناسب اعزاز کیا اور ان کو اپنے خیمہ میں جگہ دی اور اپنے قرب میں بٹھایا۔مگر تھوڑی دیر کے بعد ہی ایک غلام صحابی آپ کی ملاقات کے لئے آ گیا۔آپ نے اُن رؤساء کے لڑکوں سے فرمایا کہ ذرا پیچھے ہو جاؤ اور غلام صحابی سے کہا کہ آگے آ کر بیٹھ جاؤ۔اس کے بعد دوسرا غلام صحابی آ گیا تو آپ نے اُن سے پھر کہا کہ اور پرے ہٹ جاؤ اور اس غلام کو آگے بٹھا لیا۔پھر ایک اور غلام آ گیا تو پھر آپ نے اُن سے کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ اور اُس غلام کو کہا کہ آگے آجاؤ۔انہوں نے یہ نظارہ دیکھا تو وہ وہاں سے اُٹھے اور باہر چلے گئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ دیکھ لیا تم نے آج عمر نے ہماری کیسی ذلت کی ہے۔اُن میں سے ایک بڑا سنجیدہ اور سمجھدار نو جوان تھا اُس نے کہا عمر نے ہماری ہتک نہیں کی ، ہمارے باپ دادوں نے ہماری ہتک کی ہے۔جس وقت ہمارے باپ دادا تلوار میں لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون بہانے کے لئے آگے بڑھ رہے تھے اُس وقت ان غلاموں نے اپنے سینے اُن تلواروں کے آگے کر دیئے اور اپنی جانیں قربان کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچالیا۔آج عمرؓ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہے اگر وہ