انوارالعلوم (جلد 26) — Page xxxviii
انوار العلوم جلد 26 " 27 تعارف کتب یہ امر یاد رکھو کہ ہمارے سپرد خدا تعالیٰ نے ایک بہت بڑی امانت کی ہے۔اس زمانہ میں جبکہ ایمان ثریا پر جا چکا تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پھر اسلام کو زندہ کیا اور اُس نے آپ لوگوں کے ذریعہ اسے دنیا کے کناروں تک پہنچایا بلکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرایا۔اب آپ لوگوں کا فرض ہے کہ اپنی اگلی نسل کو بھی اس امانت کا اہل بنائیں۔اور اُس کے اندر دین کا شغف اور محبت پیدا کریں تا کہ وہ بھی نمازوں اور دعاؤں اور ذکر الہی کی پابند ہو اور دین کے لئے ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینے والی ہو۔مگر یہ کام ہم اپنے زور سے نہیں کر سکتے صرف خدا ہی ہے جو اصلاح نفس کے سامان پیدا کیا کرتا ہے۔پس اپنے لئے بھی دعائیں کرو اور اپنی اولادوں کے لئے بھی دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں سچا ایمان پیدا کرے۔اور انہیں دین کی ایسی محبت عطا کرے کہ کوئی دنیوی تعلق اس کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے تا کہ ہماری زندگی ہی پُر مسرت نہ ہو بلکہ ہماری موت بھی خوشی کی موت ہو " (19) اسلام کی ترقی اور اشاعت میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لو اور اپنی زندگیوں کو زیادہ سے زیادہ خدمت دین کیلئے وقف کرو جلسہ سالانہ 1960ء کے اختتامی اجلاس منعقدہ 28 دسمبر کو حضور بوجہ علالت طبع بنفس نفیس شریک نہ ہوئے۔حضور کی ہدایت پر مکرم مولا نا جلال الدین شمس صاحب نے آپ کی املاء کردہ تقریر کو پڑھ کر سنایا۔یہ اجلاس حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔حضور نے اپنے اس خطاب میں دنیا میں خدا کی بادشاہت کو قائم کرنے کے لئے احباب جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: "ہماری جماعت کے افراد کو بھی یہ عہد کر لینا چاہئے کہ خواہ ہم پر کتنی بڑی مشکلات آئیں اور خواہ ہمیں مالی اور جانی لحاظ سے کتنی بڑی قربانیاں کرنی پڑیں پھر بھی جو کام ہمارے آسمانی آقا نے ہمارے سپرد کیا ہے ہم اس کی بجا آوری میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں