انوارالعلوم (جلد 26) — Page 303
انوار العلوم جلد 26 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 303 سیر روحانی (11) نَحْمَدُه وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سیر روحانی (11) فرموده 28 دسمبر 1957ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سیر روحانی کے اہم موضوع پر تقریر کرنے سے قبل حضور نے احباب جماعت کو بعض ضروری امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :- ” میری زندگی میں کئی دور ایسے گزرے ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے مجھ سے ایسے کام لئے ہیں جو اس طرف اشارہ کرتے تھے کہ آنے والا صلح دین میں ہی ہوں گا۔اول تو وہ وقت آیا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام فوت ہوئے۔اُس وقت میری عمر صرف 19 سال کی تھی اور میں نے دیکھا کہ کئی بڑے بڑے پرانے احمدی کہتے پھرتے تھے کہ بے وقت موت ہوگئی ہے اب تو اس سلسلہ میں داخل رہنا بڑا مشکل ہے۔لا ہور کے ایک ڈاکٹر تھے مگر ڈاکٹر سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب یا ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ تھے وہ اور ڈاکٹر تھے اور کسی وقت اُن میں اتنا اخلاص ہوتا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو جو ڈیرہ غازیخان کی رہنے والی تھی خود قادیان میں لا کر رکھا ہوا تھا تا کہ وہ حضرت صاحب کی خدمت کرے۔وہ شاعرہ بھی تھی اور عجیب قسم کے ہنسی والے شعر بناتی تھی جن میں مولویوں کی ہنسی اُڑاتی تھی اور پھر روزانہ اپنی کاپی لا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سناتی تھی کہ میں نے یہ شعر کہے ہیں۔پھر وہ لاہور چلے گئے۔اُن کی لڑکی بھی با قاعد و سند یافتہ ڈاکٹر تھی اور بیوی بھی ڈاکٹری کا کام کرتی تھی لیکن وہ امتحان میں پاس نہیں ہوسکی تھی۔میں لاہور میں ایک دفعہ اُن کے گھر بھی گیا تھا۔انہوں نے بھینس رکھی ہوئی تھی اور بڑے خوش تھے کہ اُنہیں لاہور میں جگہ مل گئی ہے۔غرض وہ ایسا نازک وقت تھا