انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 293

انوار العلوم جلد 26 293 کے لئے تیار رہو اور احمدیت کو مضبوط کرنے کے لئے کوشاں رہو اور اپنے اختلافات کو مٹا کر متحد ہو جاؤ تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ تمہیں اپنے نیک مقاصد میں کامیاب نہ کرے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ تم ہمت کر کے کھڑے ہو جاؤ اور عزم کر لو کہ تم نے احمدیت کو مضبوط کرنا ہے۔اور پھر اس کام میں لگ جاؤ تو اِنْشَاءَ اللهُ فتح ونصرت تمہارے قدم چومے گی اور دشمن کی مخالفت کے باوجود احمدیت پھیلتی چلی جائے گی۔یہاں تک کہ وہ وقت بھی آجائے گا جب سب دنیا میں احمدی ہی احمدی ہو جائیں گے۔ایک ضروری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے مسجد ہالینڈ کی تعمیر کے لئے عورتوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کی تحریک کی تھی۔جس میں سے نانوے ہزار روپیہ عورتیں اس وقت تک دے چکی ہیں۔لیکن جو اندازہ وہاں سے آیا تھا وہ ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تھا اور عملاً اب تک ایک لاکھ پچہتر ہزار روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔تحریک جدید کا ریکارڈ کہتا ہے کہ عورتیں ننانوے ہزار روپیہ دے چکی ہیں اور پھر مسجد لندن جو بنی تھی وہ بھی عورتوں کے چندہ سے ہی بنی تھی۔دراصل عورتوں نے برلن میں مسجد تعمیر کرنے کے لئے چندہ جمع کیا تھا۔میں نے اس چندہ کی تحریک کی تو عورتوں نے اپنے زیور ا تا را تا ر کر یہ چندہ جمع کر دیا۔چنانچہ اس روپیہ سے مسجد برلن کے لئے زمین خرید لی گئی۔لیکن حکومت کی طرف سے بعض کڑی شرائط لگا دی گئی تھیں جن کی وجہ سے ہم نے وہ زمین بیچ دی اور جو روپیہ ملا اس سے لندن میں مسجد تعمیر کر دی۔اس مسجد پر قریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ آیا تھا پھر اس کے ساتھ دو مکان سوا سات ہزار پونڈ میں خریدے گئے۔سو اسات ہزار پونڈ کے معنے یہ ہیں کہ آجکل کے حساب سے ان مکانات پر ستانوے ہزار روپیہ خرچ آچکا ہے اور قریباً ڈیڑھ لاکھ مسجد پر بھی خرچ آیا تھا۔گویا عورتیں دو لاکھ سینتالیس ہزار روپیہ پہلے بھی دے چکی ہیں اور نانوے ہزار روپیہ مسجد ہالینڈ کے لئے دے چکی ہیں۔لیکن اس کے با وجود تحریک جدید والے عورتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ انہیں چھہتر ہزار روپیہ اور دیں حالانکہ اگر مسجد لندن اور وہاں کے مکانات جو عورتوں کے چندہ سے ہی بنے ہیں فروخت کئے جائیں تو اس رقم سے مسجد ہالینڈ کا سارا قرض ادا ہو سکتا ہے بلکہ وہاں ایک اور