انوارالعلوم (جلد 26) — Page 283
انوار العلوم جلد 26 283 تمام انڈیکسوں سے اعلیٰ ہے اور ان سے بہت زیادہ مضامین اس میں آگئے ہیں۔ترجمہ کے متعلق یہ خیال رکھا گیا ہے کہ وہ بامحاورہ ہو۔اس سے پہلے تمام تراجم قریباً تحت اللفظ ہوتے تھے۔یعنی عربی زبان میں جس لفظ کا جو مقام ہوتا تھا اُس کو بیان کر دیا جاتا تھا لیکن اُس میں یہ نقص ہوتا تھا کہ اردو جاننے والا جس کو قرآن کریم سمجھانا مقصود ہوتا تھا اس کے معنی اچھی طرح سمجھ سکتا تھا لیکن با محاورہ ترجمہ سے ہر اُردو جاننے والا قرآن کریم کا مفہوم آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔اس لئے ہم نے با محاورہ ترجمہ کیا ہے اور عربی زبان کے لحاظ سے جو مقام کسی لفظ کا تھا اُسے ترجمہ کے نیچے نوٹ میں ظاہر کر دیا ہے۔اس کے علاوہ قرآن کریم کے مختصر مضامین بھی درج کر دیئے ہیں۔اس طرح ترجمه با محاورہ بھی ہو گیا ہے۔تحت اللفظ بھی ہو گیا ہے اور تفسیر بھی ساتھ آگئی ہے۔غرض یہ تفسیر گو مختصر ہے مگر ایسی مکمل ہے کہ بعض مضامین اس میں ایسے آگئے ہیں کہ وہ تفسیر کبیر میں بھی نہیں آئے۔اب جو شخص تفسیر کبیر کی طرح ان نوٹوں کو پھیلانا چاہے گا وہ انہیں پھیلا سکے گا اور جو شخص انہیں پھیلانے کی قابلیت نہیں رکھتا وہ قرآن کریم کے مفہوم سے واقف ہو جائے گا۔دوسری چیز جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دی ہے وہ یہ ہے کہ پچھلے سال میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک تقریر میں کہا تھا کہ گو ہم نے اب تک فلپائن میں اپنا کوئی مبلغ نہیں بھیجا مگر تا ہم وہاں 72 افراد سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے ہیں۔اب اطلاع آئی ہے کہ وہاں سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے والوں کی تعداد 200 تک پہنچ گئی ہے۔ان لوگوں میں سکولوں اور کالجوں کے طالب علم اور گورنمنٹ کے بعض بڑے بڑے افسر جیسے محکمہ تعلیم کے افسران اور اسی طرح بعض دوسرے محکموں کے افسر شامل ہیں۔بعض سکول اور کالج ایسے ہیں جن کے طلباء کی ایک بڑی تعداد احمدیت میں داخل ہو چکی ہے۔پس کیا بلحاظ کمیت اور کیا بلحاظ کیفیت دونوں لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلپائن میں فتح عظیم بخشی ہے۔فلپائن کوئی معمولی ملک نہیں بلکہ بڑا اہم ملک ہے۔اس کو ابتداء میں مسلمانوں نے فتح کیا تھا بہت قدیم زمانہ میں مسلمان سیلون آئے۔سیلون سے انڈونیشیا گئے اور انڈونیشیا