انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 284

انوار العلوم جلد 26 284 سے جا کر انہوں نے فلپائن فتح کیا۔بعد میں اس پر سپین نے قبضہ کر لیا۔اور پھر سپین سے یہ ملک امریکہ نے چھین لیا اور پین والوں نے مسلمانوں کو بالجبر عیسائی بنایا۔چنانچہ ایک جگہ پر تلوار لٹکا دی گئی اور اعلان کر دیا گیا کہ جو مسلمان اس کے نیچے سے گزرتے ہوئے عیسائیت کا اقرار کرے گا اُس کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔لیکن جو عیسائیت کا اقرار نہیں کرے گا اُس کی گردن اسی تلوار سے اڑا دی جائے گی۔اس طرح فلپائن کے سارے مسلمان باشندوں کو ایک ہی دن میں عیسائی بنالیا گیا۔پس فلپائن کوئی معمولی ملک نہیں بلکہ اس کی حیثیت سپین سے دوسرے نمبر پر ہے۔اس جگہ ہمارے سلسلہ کا پھیل جانا بڑی برکت کا موجب ہے۔خصوصاً اس لئے بھی کہ اس ملک کی رومن کیتھولک حکومت ہمارے مبلغوں کو نہ صرف وہاں جانے نہیں دیتی بلکہ وہاں کے نو مسلموں کو پڑھنے کے لئے ربوہ بھی نہیں آنے دیتی۔اب خبر آئی ہے کہ برابر تین سال کے جھگڑے کے بعد حکومت نے ایک نو مسلم کو ربوہ آنے کی اجازت دی ہے اور اس کے متعلق بھی یہ یقین نہیں کہ وہ یہاں آ بھی سکے گا یا نہیں۔بہر حال اس ملک کی یہ کیفیت ہے کہ ہمارے آدمیوں کو اُدھر جانے نہیں دیا جاتا اور اُدھر کے آدمیوں کو ادھر نہیں آنے دیا جاتا تاکہ کہیں عیسائیت میں رخنہ نہ پیدا ہو جائے۔پھر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فلپائن کے ایسے علاقہ کے لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں جو سارے فلپائن پر غالب ہیں۔پچھلی جنگِ عظیم میں جاپانیوں کا مقابلہ انہی لوگوں کی مدد سے کیا گیا تھا۔یہ لوگ جنگل میں رہتے ہیں اور ہم تو اس فعل کو نا جائز سمجھتے ہیں مگر چونکہ وہ اپنے پہلے مذہب کے پیرو ہیں اس لئے وہ رائفلیں لے کر جنگل سے نکل آتے ہیں اور جو عیسائی انہیں نظر آئے اُسے گولی مار دیتے ہیں۔گویا ان کی مثال قبائلی پٹھانوں کی طرح ہے جو نہی انہیں کوئی عیسائی نظر آتا ہے وہ اسے گولی مار دیتے ہیں اور پھر جنگل میں چُھپ جاتے ہیں۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اسی علاقہ میں احمدیت پھیل رہی ہے اور وہاں ایسے مخلص پیدا ہو گئے ہیں جو دوسرے احمدیوں کی نگرانی کرتے رہتے ہیں اور ہمیں اطلاع دیتے رہتے ہیں کہ فلاں احمدی میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے۔اس کی اصلاح کی جائے یا اسے جماعت سے خارج کیا جائے۔