انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 56

انوار العلوم جلد 26 56 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ہو جائے گی۔( وَعَنْ شَمَابِلِهِمْ ) اور تُو اِن میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا ( وَلَا تَجِدُ اكْثَرَهُمْ شُکرین) یعنی تو دیکھ لے گا کہ ان میں سے اکثر تیری نعمت خلافت پر شکر گزار نہیں ہیں بلکہ اکثر اُن میں سے شبہات میں پڑ جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تیری ان لافوں کی پروا نہیں کرتا۔تو میرے نظامِ جماعت سے نکل جا۔تجھے ہمیشہ گنہگار قرار دیا جائے گا اور تجھے حقیر سمجھا جائے گا اور تجھے جماعت حقہ اسلامیہ سے دھتکارا جائے گا۔(قَالَ اخْرُجُ مِنْهَا مَدْهُ وَمَا مَّدْحُورًا) اور جو ان لوگوں میں سے تیری اتباع کریں گے اُن سب کو میں میں جھونک دوں گا یعنی ناکام اور حسرتوں کا شکار بنا دوں گا (لَمَنْ تَبَعَكَ مِنْهُمْ لا مُلَن جَهَنَّمَ مِنْكُمُ أَجْمَعِينَ)۔اس ارشاد پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے پورا عمل کیا جو ہمیشہ اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ کہتے آئے ہیں۔باقی جماعتوں میں سے کچھ لوگوں نے اس پر عمل تو کیا ہے لیکن اس کو اہم اصل قرار دے کر اسے یاد نہیں رکھا۔ان آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ مخالفین نظام الہی کو اپنے آپ سے جُدا کر دینا خدائی حکم ہے اور یہ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ ناکام و نامرادر ہیں گے۔چنانچہ جس وقت یہ فتنہ شروع ہوا ہے بہت سے جماعت کے مخلصین نے مجھے لکھا کہ آپ خواہ مخواہ ان کو موقع کیوں دیتے ہیں، کیوں نہیں انہیں جماعت سے خارج کر دیتے۔بعض کمزور ایسے بھی تھے جنہوں نے یہ لکھنا شروع کیا کہ آخر حضرت خلیفہ اول کی اولاد ہے۔اس پر مجھے مولوی رحیم بخش صاحب کا واقعہ یاد آ گیا۔1914ء میں جب مولوی محمد احسن صاحب نے لاہوریوں کے لالچ دلانے پر اشتہار شائع کیا کہ میں نے ہی میاں محمود کو خلیفہ بنایا تھا اور میں ہی ان کو خلافت سے اتارتا ہوں تو جماعت نے اُس وقت یہ ریزولیوشن پیش کیا کہ ان کو جماعت سے نکالا جائے۔مولوی رحیم بخش صاحب سیالکوٹ کے ایک بڑھے صحابی تھے وہ کھڑے ہو گئے اور بڑے زور سے کہنے لگے کہ ایسا ریزولیوشن پاس نہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو فرشتہ قرار دیا ہے۔میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ مولوی صاحب ! آپ کا کیا منشاء ہے کہ جو کہتا ہے کہ خلافت تو ڑ دو اُس کو یعنی تازه فتنه منافقین