انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 581

انوار العلوم جلد 26 وو 581 پیغامات کتابوں کا تجسس پیدا ہوا اور آج میں ان کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں ’ حدیث دفاع جو غالبا جرنیل صاحب کی پہلی کتاب ہے۔فوجی امور سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے معلومات کا ایک گراں قدر ذخیرہ ہے کیونکہ اس میں انہوں نے جنگ کے متعلق اسلامی احکام اور صحابہ کے اعمال کو روشن کیا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہر مسلمان جس کو اسلام کی خوبیوں کو معلوم کرنے کا شوق ہوگا وہ اس کتاب کو پڑھ کر نہ صرف اسلام کے متعلق اپنی معلومات کو بڑھائے گا بلکہ اسلام کی عظمت کا پہلے سے بھی زیادہ قائل ہو جائے گا۔میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب تبلیغ اسلام میں بھی کام آسکتی ہے اور اگر اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ ہو جائے تو انگریزی جاننے والے ملکوں میں غیر مسلموں کو اسلام سے روشناس کرانے میں ایک نہایت اعلیٰ ذریعہ ثابت ہوگی۔66 دوسری کتاب یا کم از کم وہ دوسری کتاب جو مجھے ملی ہے جنرل صاحب کی تصنیف اسلحہ جنگ ہے۔یہ کتاب ” حدیث دفاع کی طرح براہ راست تو اسلام پر کوئی روشنی نہیں ڈالتی لیکن فوج کے ساتھ تعلق رکھنے والے زمانہ حال کے ہتھیاروں سے پبلک کو بہت عمدہ طور پر روشناس کراتی ہے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ پرانے زمانے میں جنگ کے جیتنے کے لیے جو آلات ایجاد ہوئے تھے موجودہ زمانہ میں اُن کو ترقی دے کر ایک ایسی شکل مل گئی ہے کہ دونوں میں موازنہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔پہلے ایشیا جنگی ہتھیاروں میں ترقی کر رہا تھا مگر اب یورپ کی توجہ اس طرف ہوگئی ہے۔بلکہ امریکہ بھی اس دوڑ میں آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس ضمن میں انہوں نے جرمنی کی ان کوششوں کا بھی ذکر کیا ہے جو پچھلی جنگ جیتنے کے لیے اس نے کی تھیں اور ایسی باتیں لکھی ہیں جن سے پاکستان کی حکومت فائدہ اٹھا سکتی ہے۔چونکہ جرنیل صاحب دوسری عالمگیر جنگ میں بھی شامل رہے ہیں اس لیے ان کو نئے ہتھیاروں کا بھی خاص علم ہے جس سے فائدہ اٹھانا ان کی قوم اور ان کی حکومت کا فرض ہے۔انہوں نے اس کتاب میں نئے ہتھیاروں کے متعلق بڑی بحث کی ہے۔غالبا ایچ بم اور ایٹم بم کے متعلق وہ کچھ نہیں لکھ سکے اس لیے کہ یہ دونوں ہم آج تک امریکہ کے فوجی محکمے کا راز رہے ہیں اور امریکہ نے آج تک حلیفوں کو بھی اس راز