انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 544

انوار العلوم جلد 26 544 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش سلام۔۔اس کام کی اہلیت موجود ہے۔اور اگر تم اخلاص اور قربانی سے کام کرو تو یقیناً اس فرض کو سرانجام دے سکتے ہو۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ معمولی معمولی عذرات کی بناء پر اس اہم فریضہ کی ادائیگی میں تساہل سے کام لینے لگ جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود بھی ثواب سے محروم رہتے ہیں اور دنیا کی ظلمت بھی دور نہیں ہوتی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو شخص اس کام میں حصہ لے گا اُسے اپنے وقت کو بھی قربان کرنا پڑے گا ، اپنا مال بھی قربان کرنا پڑے گا، اپنے آرام اور آسائش کو بھی قربان کرنا پڑے گا۔لیکن دنیا کا کونسا کام ہے جس کے لئے کوئی قربانی نہیں کی جاتی۔اور اگر بغیر کسی قربانی کے ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہونا چاہیں تو اللہ تعالیٰ سے ہم ثواب کے کس طرح امیدوار ہو سکتے ہیں۔میں نے اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے جماعت کے دوستوں کو کئی بارتحریک کی کہ ہر فرد کو سال بھر میں کم از کم ایک شخص کو راہِ راست پر لانے کا عہد کرنا چاہئے مگر باجود اس کے کہ صرف ایک شخص کو اور وہ بھی سال بھر میں اسلامی انوار کا گرویدہ بنانے کا عہد کرنا تھا پھر بھی بہت کم دوست اس میں شریک ہوئے۔حالانکہ اگر صحیح کوشش سے کام لیا جائے تو انسان سال بھر میں دس دس ہیں ہیں بلکہ سوسو افراد کو بھی حق کا شکار کر سکتا ہے۔ہماری جماعت کی تعداد اس وقت دس لاکھ سے کم نہیں۔اگر ایک شخص سال بھر میں دس افراد کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے تو صرف ایک سال میں ہماری تعداد ایک کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔اور یہ کوئی مشکل امر نہیں۔سیالکوٹ کے ایک دوست تھے جب میں نے یہ تحریک کی تو پہلے سال انہوں نے کہا کہ میں ایک احمدی بناؤں گا۔دوسرے سال دو احمدی بنانے کا عہد کیا۔تیسرے سال تین احمدی بنانے کا عہد کیا۔چوتھے سال چار احمدی بنانے کا عہد کیا۔اسی طرح ہوتے ہوتے دس بارہ احمدی بنانے لگ گئے۔پھر ایک دفعہ میں نے زیادہ زور دیا تو وہ یہ عہد کر کے گئے کہ میں سواحمدی بناؤں گا۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ اس کے بعد برابر اُن کی چٹھیوں میں ذکر ہوتا تھا کہ یہ میرا دسواں احمدی ہے، یہ بیسواں احمدی ہے، یہ چالیسواں احمدی ہے، یہ ساٹھواں یا سترواں احمدی ہے، اور اس طرح انہوں نے سو کی تعداد پوری کر دی۔اگر اس روح کے ساتھ کام کرنے والے دس ہزار آدمی بھی ہماری