انوارالعلوم (جلد 26) — Page 545
انوار العلوم جلد 26 545 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش سلام۔۔جماعت میں پیدا ہو جائیں اور ان میں سے ہر شخص سال میں صرف دس افراد کی زیادتی کا موجب بن جائے تو سال بھر میں ایک لاکھ اور دوسرے سال میں دس لاکھ نئے افراد ہماری جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔مگر اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے اندرا شاعت اسلام کی ایک آگ پیدا کی جائے اور رات دن یہ مقصد اپنے سامنے رکھا جائے کہ ہم نے دنیا بھر کو اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل کرنا ہے۔پھر میں نے دیکھا ہے کہ جب بعض لوگ دوسروں کو سمجھا ئیں گے تو اُن میں سنجیدگی نہیں ہوگی۔کسی نے مذاق کر دیا تو خود بھی مذاق کر دیں گے۔ان میں یہ سنجیدگی کہ دوسرا شخص بھی توجہ دینے اور یہ سمجھنے پر مجبور ہو کہ یہ شخص میری ہدایت کے غم میں مرا جا رہا ہے پائی نہیں جاتی۔نو جوان سیروں کو جائیں گے۔مجالس میں قہقہے لگائیں گے۔دوستوں سے گہیں ہانکنے میں اپنا وقت ضائع کر دیں گے۔مگر دنیا کے ظلمت کدہ کو منور کرنے کی طرف ان کی توجہ نہیں ہوگی۔اگر ہماری جماعت میں ایک دیوانگی ہوتی تو دس لاکھ یا ایک کروڑ کا بھی سوال نہیں اب تک ہماری جماعت دس کروڑ تک پہنچ چکی ہوتی۔پس میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے دلوں میں تبدیلی پیدا کرو۔مخالف کی تبدیلی اتنی ضروری نہیں جتنی تمہاری اپنی تبدیلی ضروری ہے۔مخالف آج مانے یا کل اگر تمہارے اپنے اندر درد پیدا ہو جائے تو وہ خود بخود مائل ہونا شروع ہو جائے گا۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو اپنا سح نظر بلند کرنا چاہئے اور خواہ سفر ہو یا حضر ان کے مد نظر صرف یہی بات ہونی چاہئے کہ ہمارا کام لوگوں کو حقیقی اسلام کی طرف بلانا اور انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلقہ بگوش بنانا ہے۔اس اہم فرض کی ادائیگی کا آسان طریق میں نے بتا دیا ہے کہ آپ لوگوں میں سے ہر شخص یہ عہد کرے کہ وہ سال بھر میں کم از کم ایک بُھولی بھٹکی روح کو آستانہ الہی کی طرف کھینچ لانے کا موجب بنے گا۔بلکہ میں سمجھتا ہوں اب ہمیں اس سے بھی آگے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔اور ہماری جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ ایک کی بجائے کم از کم دس نئے افراد کو احمدیت میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔اگر کسی سال وہ اپنے اس عہد کو پورا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو کم سے کم اس کا اتنا فائدہ تو ضرور ہو گا کہ