انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 391

انوار العلوم جلد 26 391 اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کی جائیں اور جن ملکوں نے زراعت میں ترقی کی ہے ان کی نقل کی جائے۔ہمارا زمیندار محنت سے جی چراتا ہے ورنہ وہ ایک دوا یکڑ کا مالک ہو کر بھی بڑے اعلیٰ درجہ پر اپنے خاندان کو پال سکتا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں قادیان میں سیر کے لئے گیا۔میرے ساتھ اور بھی بعض دوست تھے ہم بسراواں کی طرف جا رہے تھے۔عام طور پر مجھے اپنے کھیتوں کا بھی پتا نہیں ہوتا کہ کہاں ہیں۔چنانچہ ایک گواہی میں مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے ایک ایسے کھیت کے متعلق سوال کیا جہاں سے میں اکثر گزرا کرتا تھا اور پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟ میں نے کہا مجھے تو علم نہیں۔اس پر اُس کا وکیل ہنس پڑا۔اُس کا مطلب یہ تھا کہ گویا میں جھوٹ بول رہا ہوں۔اس نے کہا کیا آپ جلسہ پر جاتے ہوئے اس رستہ سے نہیں گزرتے ؟ میں نے کہا ہاں میں اسی رستہ سے گزرتا ہوں۔اُس نے کہا پھر آپ کو اس کھیت کا علم کیوں نہیں؟ میں نے کہا مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔میں نے زمین کا کام اپنے بھائی کے سپرد کیا ہوا ہے خود مجھے علم نہیں کہ میری زمین کہاں ہے۔بلکہ ممکن ہے میرے بھائی کو بھی اس کھیت کا علم نہ ہو کیونکہ وہ بھی سارا دن دین کے کاموں میں لگے رہتے ہیں لیکن بہر حال مجھے تو بالکل پتا نہیں۔وکیل نے عدالت کو کہا کہ دیکھئے ! اُس کا مطلب یہ تھا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔وہ وکیل غیر احمدی ہے اور اب تک زندہ ہے بعد میں مجھے ملا تو کہنے لگا مجھے آپ کے حالات کا علم نہیں تھا اس لئے میں نے اس قسم کا سوال کر دیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ جو کچھ آپ نے کہا تھا وہ بالکل ٹھیک تھا کیونکہ آپ اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے بلکہ دین کے کاموں میں ہی لگے رہتے ہیں۔تو بسراواں جاتے ہوئے میں ایک کھیت کے پاس سے گزرا۔میں نے اسے دیکھ کر کہا کہ یہ کھیت کسی سکھ کا معلوم ہوتا ہے۔میرے ساتھی کہنے لگے آپ کو یہ کس طرح پتا لگ گیا کہ یہ کھیت کسی سکھ کا ہے؟ میں نے کہا اچھا کسی زمیندار کو بلا ؤ اور اس سے پوچھو۔چنانچہ ایک زمیندار کو بلایا گیا اور اُس سے دریافت کیا گیا کہ یہ کھیت کس کا ہے۔تو اس نے بتایا کہ یہ کھیت فلاں سکھ کا ہے۔پھر میں نے کہا یہ ساتھ والا کھیت کسی مسلمان کا ہے۔اور اس زمیندار نے اس بات کی بھی تصدیق کی ، ساتھ والے