انوارالعلوم (جلد 26) — Page xlii
انوار العلوم جلد 26 31 تعارف کنند تعلیم رکھ کر گزارا کرنا چاہئے۔اس مضمون پر تقاریر ہورہی تھیں۔اُس وقت میری عمر 20 سال تھی۔میں اٹھا اور جماعت کو مخاطب ہو کر کہا کہ ہمارے کام آج ختم نہیں ہو جائیں گے۔۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بعض لوگوں نے کہا تھا کہ اسامہ کی سرکردگی میں جس لشکر کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا اب اس کی کوئی ضرورت نہیں۔حضرت ابو بکر نے اس موقع پر فرمایا تھا ابوقحافہ کی کیا مجال کہ وہ خلافت سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کرے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری مہم تیار کی تھی اسے روک دے۔آپ نے فرمایا۔خدا کی قسم ! اگر کفار، مدینہ کو فتح کر لیں اور مدینہ کی گلیوں میں مسلمان عورتوں کی لاشیں گئے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا۔آج میں بھی یہی کہتا ہوں کہ مدرسہ احمدیہ کا قیام بھی حضرت مسیح موعود نے اپنی زندگی میں فرمایا تھا۔ہمیں اس کو جاری رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کے دلوں کو میری طرف پھیر دیا۔بعض کی چیچنیں نکل گئیں اور یک زبان ہوکر بولے کہ مدرسہ احمد یہ بند نہیں ہونا چاہئے۔حضرت مصلح موعود نے اسلام کی اشاعت کے لئے اپنی خدمات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: " میرا نام دنیا میں ہمیشہ قائم رہے گا اور گو میں مر جاؤں گا مگر میرا نام کبھی نہیں مٹے گا۔یہ خدا کا فیصلہ ہے جو آسمان پر ہو چکا کہ وہ میرے نام اور میرے کام کو دنیا میں قائم رکھے گا۔اور ہر شخص جو میرے مقابلہ میں کھڑا ہوگا وہ خدا کے فضل سے ناکام رہے گا۔دنیا میں جھوٹ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا " پھر فرمایا: " خدا نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ خواہ مخالف مجھے کتنی بھی گالیاں دیں، مجھے کتنا بھی بُرا سمجھیں بہر حال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے بھی اختیار میں نہیں کہ وہ میرا نام اسلام کی تاریخ کے صفحات سے مٹا سکے۔آج نہیں آج سے چالیس پچاس بلکہ