انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 228

انوار العلوم جلد 26 228 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک ز وہ چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دے دے اور دوسری شادی کر لے اور چاہے تو ابو جہل کی بیٹی سے رشتہ کا خیال ترک کر دے۔بہر حال ابو جہل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید ترین دشمن تھا اور اس کا بیٹا عکرمہ (جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا ) مخالفت میں اتنا بڑھا ہوا تھا کہ جب مکہ فتح ہوا تو اس نے یہ برداشت نہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہ ہوں اور وہ آپ کی رعیت کہلائے۔چنانچہ وہ حبشہ کی طرف بھاگ گیا۔اُس کی بیوی زیادہ شریف تھی اور دل سے مسلمان تھی۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا عکرمہ آپ کا رشتہ دار نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ میرا رشتہ دار ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا یہ بات آپ کو اچھی لگتی ہے کہ عکرمہ یہاں نہ رہے ؟ جب غیر حاکم تھے تو وہ مکہ میں رہتا تھا لیکن اب آپ جو اس کے رشتہ دار ہیں حاکم بن گئے ہیں تو وہ بھاگ کر حبشہ چلا گیا ہے۔آپ نے فرمایا وہ کیوں حبشہ چلا گیا ہے ؟ عکرمہ کی بیوی نے جواب دیا اُسے خبر ملی تھی کہ آپ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا ہے۔یارسول اللہ ! جہاں آپ نے اپنے باقی دشمنوں کو معاف کر دیا ہے عکرمہ کو بھی معاف فرما دیں۔آپ نے فرمایا ہم معاف کرتے ہیں۔وہ واپس آجائے تو ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے۔عکرمہ کی بیوی نے کہا یا رسول اللہ ! وہ بڑا با غیرت انسان ہے شاید اس کے واپس آجانے کے بعد آپ اُس سے امید رکھیں کہ وہ اسلام لے آئے وہ اسلام نہیں لائے گا۔آپ نے فرمایا میری طرف سے اُسے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت ہے۔وہ عورت بڑی ہمت والی تھی وہ اپنے خاوند کی تلاش میں گئی۔عکرمہ مکہ سے بھاگ کر حبشہ کی طرف جا رہا تھا۔جب ساحلِ سمندر پر عرب کو ہمیشہ کیلئے چھوڑنے کی نیت سے بیٹھا ہوا تھا تو پراگندہ سر پریشان حال بیوی گھبرائی ہوئی وہاں پہنچی تو اس نے کہا میرے چا کے بیٹے ! ( عرب عورتیں اپنے خاوند کو چا کا بیٹا کہا کرتی تھیں) اتنے شریف اور رحمدل انسان چھوڑ کر تم کہاں جا رہے ہو؟ یہ جگہ جہاں سے حبشہ کو جہاز جاتے تھے مکہ سے 70 میل کے فاصلہ پر تھی۔عکرمہ نے کہا تم میرے پیچھے بھاگ کر کیوں آگئی ہو کیا تم سمجھتی ہو کہ میری ساری دشمنیوں کے باوجود محمد مجھے معاف کر دیں گے؟ بیوی نے کہا ہاں میں محمد سے مل کر آئی ہوں۔انہوں نے فرمایا ہے کہ میں نے