انوارالعلوم (جلد 26) — Page 225
انوار العلوم جلد 26 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 225 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زندہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہے (فرمودہ 26 اکتوبر 1957ء بر موقع اجتماع لجنہ اماءاللہ ربوہ ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَةُ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْةُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ا اس کے بعد فرمایا:۔ایک اعتراض کا جواب یہ سورۃ جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ! ہم نے یقینا تجھے کوثر عطا فرمایا ہے۔سو تو اس عظیم الشان نعمت کے شکریہ کے طور پر اپنے رب کی کثرت سے عبادت کر اور ہر قسم کی قربانیوں کیلئے تیار رہ۔اور یقین رکھ کہ تیرا دشمن ہی نرینہ اولاد سے محروم ثابت ہوگا۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نرینہ اولا د زندہ نہیں رہی اس لئے قریش مکہ آپ کی تحقیر کیلئے آپ کو ابتر کہا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں دشمنوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اُن کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتر نہیں بلکہ ان کا دشمن ہی ابتر ثابت ہوگا اور وہی اولا دنر بینہ سے محروم رہے گا۔اب جہاں تک جسمانی اولاد نرینہ کا سوال ہے بیشک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کوئی نرینہ اولا دزندہ نہیں رہی جس سے آپ کی جسمانی نسل چلتی۔مگر جہاں تک روحانی اولاد کا سوال ہے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اولا دمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اور اتنی کثرت کے ساتھ ملی کہ اس کی نظیر دنیا کے کسی نبی میں بھی نظر نہیں آتی۔اسی چیز کا ذکر آیت خاتم النبین میں کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ گو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم