انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 192

انوار العلوم جلد 26 192 یوم مصلح موعود پر جماعت احمدیہ کراچی۔طاقت بھی اس کی قدرت نمائی کو روک نہیں سکتی۔ہمارا کام شروع سے یہی رہا ہے کہ مخالف کے سامنے ہم اپنی زبان بند کر لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے کہتے ہیں کہ اے خدا ! جماعت کو تو نے ترقی دیتے دیتے اس مقام پر پہنچایا ہے کہ اب وہ دنیا کے اکثر ممالک میں پھیل چکی ہے مگر ابھی اس کی آئندہ ترقی کے متعلق تیرے بہت بڑے وعدے باقی ہیں جن کے پورا ہونے کا ہم انتظار کر رہے ہیں۔وہ پیشگوئیاں ہم نے اپنے پاس سے بنا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کان میں نہیں ڈالیں بلکہ اے خدا! تو نے اُس پر الہاما نازل کی تھیں اور اُس نے ان پیشگوئیوں کا دنیا میں اعلان کیا تھا۔وہ تیرا ایک راستباز بندہ تھا اگر وہ پیشگوئیاں غلط ہوئیں تو اے خدا! مسیح موعود کا کچھ نہیں بگڑتا جو کچھ بگڑتا ہے وہ تیرا بگڑتا ہے۔کیونکہ اس کے نتیجہ میں لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو جائے گا کہ خدائے زمین و آسمان بھی نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹ بول سکتے ہیں کیونکہ خدا ان سے ہم کلام ہوتا تھا اور اس نے ان سے جو کچھ کہا وہ جھوٹا ثابت ہوا۔اور چونکہ خدا کو اپنی عزت کا پاس ہے وہ یہ کبھی برداشت نہیں کرسکتا کہ لوگ اسے کا ذب اور مفتری کہیں۔انسان اگر جھوٹ بولتا ہے تو مجبوری سے بولتا ہے۔وہ کہتا ہے اگر میں جھوٹ نہ بولتا تو کیا کرتا جھوٹ بولے بغیر میں فلاں کام نہیں کر سکتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبوری نہیں۔قیامت کے دن اگر جھوٹ بولنے پر اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دے گا تو وہ کہہ سکتا ہے کہ خدایا! میں مجبور تھا۔میں نے اپنے حالات سے مجبور ہو کر جھوٹ بولا لیکن خدا تعالیٰ کے لئے ایسی کوئی مجبوری نہیں۔پس اگر خدا تعالیٰ کے وعدے پورے نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ پر زیادہ الزام عائد ہوتا ہے اور وہ چھوٹے سے چھوٹا الزام بھی برداشت نہیں کر سکتا۔وہ یہی چاہتا ہے کہ میری عظمت اور میری تو حید اور میری تفرید دنیا میں قائم ہو اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے سوائے جماعت احمدیہ کے دنیا میں اور کوئی جماعت کام نہیں کر رہی۔لوگوں کے پاس مال بھی ہے۔ان کے پاس طاقت بھی ہے۔ان کے پاس ذرائع اور اسباب بھی ہیں۔ان کے پاس حکومت بھی ہے لیکن کوئی نہیں جو خدا کے نام کو بلند کر رہا ہو اور اُس کے دین کی اشاعت کے لئے کوشش کر رہا ہو۔صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جس کے افراد غریب ہوتے ہوئے ، کنگال ہوتے ہوئے ،