انوارالعلوم (جلد 26) — Page 191
انوار العلوم جلد 26 191 یوم صلح موعود پر جماعت احمدیہ کراچی۔تھا مگر بجائے اس کے کہ میں خوش ہوتا میں نے اُلٹا اعتراض کر دیا۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کا کام تھا کہ اس نے میرے ہاتھ سے اس فتنہ کو بے نقاب کر دیا۔ورنہ ممکن تھا کہ میں بھی یہ سمجھ لیتا کہ یہ ایک حقیر چپڑاسی ہے اس کی کسی بات کو کیا اہمیت دینی ہے۔مگر بعد میں جب دوستوں کی طرف سے خطوں پر خط آنے شروع ہوئے اور سینکڑوں گواہیاں ملنی شروع ہوئیں اور جماعت کے لوگوں نے ان کے خطوط پکڑ پکڑ کر مجھے بھجوانے شروع کر دیئے تو پھر پتا لگا کہ اللہ رکھا کے پیچھے کیا چیز تھی۔چنانچہ آج ہی ایک رسالہ ملا ہے جو ان منافقین کی تائید میں غزنویوں کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب جماعت احمد یہ بہت تھوڑی سی تھی کیا کر لیا تھا جو آج کر لیں گے جبکہ ہماری جماعت اُس وقت سے سینکڑوں گنے زیادہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ عبد الحق غزنوی کو امرتسر کے بازاروں میں چلتا ہوا دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ اس کی کیا حیثیت ہے اور پھر قادیان میں آکر دیکھو کہ یہاں کس قدر رجوع خلائق ہے اور کتنا ارادت مندوں کا لشکر یہاں ڈیرہ جمائے بیٹھا ہے۔تو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب آپ کے ساتھ صرف چند آدمی تھے غزنوی خاندان جماعت احمدیہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا تو اب جبکہ جماعت اُس وقت سے ہزاروں گنا زیادہ ہے یہ لوگ اسے کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلہ کے ساتھ خدا ہے اور وہ ہمیشہ ہماری جماعت کی تائید کرتا چلا آیا ہے۔چنانچہ 1953 ء میں جب فسادات ہوئے اور جماعت احمدیہ کو مٹانے کے لئے حملہ کیا گیا تو میں نے اُس وقت اعلان کیا کہ اے دوستو ! گھبراؤ نہیں بے شک فتنہ بڑا ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا آ رہا ہے نہیں وہ دوڑا چلا آ رہا ہے۔چنانچہ معاً بعد لاہور میں مارشل لاء نافذ ہو گیا اور امن قائم ہو گیا۔پس ہمارا کام شروع سے خدا تعالیٰ کے سپرد ہے اور وہی آئندہ بھی اپنی مدد کو جاری رکھے گا اور دشمنوں کے حملوں کو نا کام کرے گا۔وہ خدائے قادر ہے اور جب وہ اپنی قدرت نمائی پر آتا ہے تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی