انوارالعلوم (جلد 26) — Page 105
انوار العلوم جلد 26 105 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت علیہ السلام نے اپنی اولاد کیلئے دنیاوی ترقیات کے لئے دعا فرمائی ہے جیسے دے ان کو عمر و دولت پھر کہا کہ آپ دیکھیں حضور کی اولاد دنیا کے پیچھے لگ کر پریشانیوں اور تکلیفوں میں مبتلا ہے کیونکہ دنیا کے پیچھے لگ کر انسان سکونِ قلب حاصل نہیں کر سکتا۔“ ان کا یہ درس یا تقریر بتاتی ہے کہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کوئی ایمان نہیں رہا ورنہ وہ حضرت خلیفہ اول کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ترجیح نہ دیتے۔پھر ان کی بات بھی غلط ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لئے دنیا نہیں مانگی بلکہ دین مانگا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- کر ان کو نیک قسمت دے ان کو دین و دولت کر ان کی خود حفاظت ہو ان یہ تیری رحمت دے رُشد اور ھدایت ، اور عمر اور عزت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي شیطان سے دُور رکھیو! اپنے حضور رکھیو! جاں پُر ز نور رکھیو! دل پر سرور رکھیو! ان پر میں تیرے قرباں رحمت ضرور رکھیو! یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي یہ تینوں تیرے بندے رکھیو نہ ان کو گندے کر ڈور ان سے یارب! دنیا کے سارے پھندے چنگے رہیں ہمیشہ کریو نہ ان کو مندے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اے میری جاں کے جانی !اے شاہِ دو جہانی! کر ایسی مہربانی ، ان کا نہ ہووے ثانی