انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 104

انوار العلوم جلد 26 104 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت پھر فرماتے ہیں کہ تمہارے مباہلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمہارے بھائی کا بھی خانہ ویران ہو گیا۔59 تمہارے بھائی مولوی عبدالواحد کا بھی خانہ برباد ہو گیا یعنی مولوی اسماعیل غزنوی کے باپ کا جس کی بیوی حضرت خلیفہ اول کی بڑی بیٹی تھی اور فرماتے ہیں یہ میرے مباہلہ کا نتیجہ تھا۔غرض یہ خاندان ، سلسلہ کا پرانا دشمن ہے۔ان کے دادا نے پیشگوئی کی ہوئی ہے کہ ان کو نور قادیان یعنی صداقت احمدیت نصیب نہیں ہوگی اور ہمیشہ اس کے دشمن رہیں گے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ اب منان اور عبدالوہاب سے انہوں نے اس فتنہ کے موقع پر خاص یارا نہ گانٹھا ہے جس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کی پیشگوئی کے مطابق مولوی عبد المنان اور مولوی عبدالوہاب بھی احمدی نہیں رہے کیونکہ اگر ان میں احمدیت رہتی تو مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی پیشگوئی کے مطابق ان کے پوتے اور ان کے پڑپوتے ان کی دوستی اور ان کی حمایت نہ کرتے۔مگر چونکہ وہ ان کی حمایت میں ہیں معلوم ہوا کہ ان لوگوں میں بھی احمدیت باقی نہیں رہی۔اگر باقی ہے تو پھر مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی پیشگوئی جھوٹی جاتی ہے حالانکہ وہ ایک راست باز انسان تھے۔دسمبر 1954ء میں مولوی عبدالوہاب صاحب نے لاہور میں کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کیلئے صرف دنیوی ترقیات کے لئے دعا فرمائی ہے مگر حضرت خلیفہ اول نے اپنی اولاد کو خدا کے سپرد کر دیا۔چنانچہ ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب نواب شاہ سندھ کی شہادت ہے کہ :- ” عاجز دسمبر 1954ء کے قافلہ کے ساتھ جو کہ جلسہ سالانہ پر قادیان جانے والا تھا لاہور جو دھامل بلڈنگ گیا۔رات جو دھامل بلڈنگ میں گزاری۔صبح نماز فجر باجماعت پڑھنے کے بعد بیٹھے تھے کہ مولوی عبدالوہاب صاحب آگئے اور پوچھا کہ جماعت ہوگئی ہے؟ بتانے پر کہ جماعت ہو چکی ہے انہوں نے خود اکیلے ہی نماز پڑھ لی۔مولوی عبدالوہاب صاحب کہنے لگے ( جیسے کہ درس دیا جاتا ہے ) کہ حضرت مسیح موعود