انوارالعلوم (جلد 26) — Page 89
انوار العلوم جلد 26 89 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ہے اور اس ضمن میں تلاشی لے رہے تھے۔انہوں نے مولوی عبدالوہاب کی سخت بے عزتی کی جو مجھے ناگوار گزری کیونکہ بھائی صاحب نے حضور سے عرض کر دیا تھا اور حضور نے ستاری سے کام لیا۔مجھے محض حضرت خلیفہ اوّل کے مقام اور بھیروی اور ہمارے بزرگوں کے محسن ہونے اور اکثر بھیرہ کے لوگوں کے اُن کے ذریعہ جماعت میں داخل ہونے کی وجہ سے بھائی صاحب پر افسوس ہوا کہ حضور نے تو ستاری کی اور وہ ان کو ننگا کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ جنگ سے پہلے اور جنگ شروع ہونے کے زمانہ میں جو اغلبا 1937 ء،1938 ءاور 1939 ءتھا میں کاروبار کے سلسلہ میں شملہ جاتا رہا۔پہلی دفعہ وہاں میں مسلم یا دہلی مسلم ہوٹل میں (صحیح نام یاد نہیں) ٹھہرا۔اور پھر دوسری مختلف جگہوں پر ٹھہرا۔میرا قالین کا کاروبار تھا اور قالین کے ایرانی بیو پاری مال لے کر اس ہوٹل میں ٹھہر تے تھے جس کی وجہ سے اکثر اس ہوٹل میں جانا پڑتا تھا۔ہوٹل کے مالک دہلی میں ریلوے اسٹیشن پر مسلم ریفرشمنٹ روم کے کنٹریکٹر بھی تھے۔اور ان کا منیجر منظور حسین یا احمد ہوتا تھا مجھے سنہ صحیح یاد نہیں مگر مندرجہ بالا اوقات کے دوران میں ایک دن اس ہوٹل کے کھانے کے کمرے میں چائے یا کھانا کھا رہا تھا تو وہاں ایک سفید ریش معمّر مولوی صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔اب یاد نہیں کہ مولوی عبدالوہاب صاحب وہاں مجھ سے پہلے بیٹھے ہوئے تھے یا بعد میں آئے اُن سے وہاں ملاقات ہوئی۔میں اپنے ساتھی کے ساتھ مصروف رہا۔مولوی عبدالوہاب صاحب فارغ ہو کر چلے گئے اور میں وہاں بیٹھا رہا۔منیجر ہوٹل منظور صاحب جن سے میری بے تکلفی تھی آ کر پاس ہی بیٹھ گئے۔اُن سفید ریش مولوی صاحب نے جو نہیں جانتے تھے کہ میں احمدی ہوں ( مگر منظور صاحب کو میرا اچھی طرح علم تھا ) مولوی عبدالوہاب صاحب کا ان کے چلے جانے کے بعد ذکر شروع کر دیا کہ یہ فلاں آدمی ہیں اور یہ ہمیں خبریں دیتے ہیں اور