انوارالعلوم (جلد 26) — Page 88
انوار العلوم جلد 26 88 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔طور پر پینتالیس ہزار کی رقم دی ہے اور پچھلے سال قریباً ڈیڑھ لاکھ کی زمین انجمن کو دی ہے تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کو ایک کوڑی بھی نہیں ملی بلکہ انہوں نے بغیر کوئی پیسہ لئے صدر انجمن احمدیہ کی خدمت کی ہے اور اس کو ایک بڑی بھاری رقم دی ہے۔اور اس کے علاوہ تحریک جدید کو میں نے تین لاکھ روپیہ دیا ہے۔1936ء میں کیپٹن نواب دین صاحب دار الفضل ربوہ کی گواہی کے مطابق شیخ محمد سعید صاحب نے جو آجکل صوبیدار میجر کے عہدہ سے ریٹائر ہو کر لاہور میں مقیم ہیں اُن کے پاس بیان کیا کہ ڈلہوزی میں میاں عبدالوہاب شیخ مولا بخش صاحب لائلپوری اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی اُن مجالس میں موجود ہوتے تھے جن میں وہ خلیفہ ثانی پر گندے الزامات لگاتے تھے اور ان لوگوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے۔1940ء میں شیخ عبدالرحیم صاحب پراچہ کی گواہی کے مطابق مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی کے والد مولوی محمد زکریا صاحب نے یہ انکشاف کیا کہ مولوی عبدالوہاب صاحب ان کے ایجنٹ اور مخبر ہیں۔چنانچہ پراچہ صاحب لکھتے ہیں :۔مکرم شیخ عبدالرحیم صاحب پراچہ کی شہادت وو بہت عرصہ ہوا احمد یہ ہوٹل لاہور مزنگ کے علاقہ میں نواب صاحب بہاولپور کی کوٹھی میں جس کا نام مجھے یقینی طور پر یاد نہیں رہا (غالباً الفیض تھا ) میرے بڑے بھائی میاں فضل کریم صاحب پراچہ بی۔اے ایل ایل بی سپرنٹنڈنٹ ہوسٹل تھے۔حضور لاہور تشریف لائے تو ہوٹل میں ہی قیام فرمایا۔میں بھی لاہور میں تھا۔ایک دن حضور باہر تشریف لے گئے اور حضور کے کمرہ میں کوئی نہ تھا تو مولوی عبد الوہاب اُس کمرہ میں گئے اور حضور کے کا غذات دیکھنے لگ گئے۔بھائی فضل کریم صاحب نے دیکھ لیا اور انہوں نے اُن سے بہت سختی کی اور حضور کی خدمت میں بھی بعد میں عرض کر دیا۔اب مجھے یاد نہیں اُس وقت میں ہوٹل میں تھا یا بعد میں بھائی صاحب نے بتایا وہ بہت غصے میں تھے اور کہتے تھے ان کا پیغامیوں سے تعلق