انوارالعلوم (جلد 26) — Page 70
انوار العلوم جلد 26 70 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت لکھا۔مولوی محمد علی صاحب نے اس کے جواب میں مجھے لکھا کہ آپ کے خط کا تو میں ممنون ہوں مگر مجھے افسوس ہے کہ حضرت اماں جان میری بیوی کی لاش دیکھنے نہیں آئیں (حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاش دیکھنے کے لئے عورتوں کو باہر جانے سے منع کیا ہوا ہے ) یہ صدمہ ایسا ہے کہ میں زندگی بھر اسے نہیں بھول سکتا۔یہ گویا دوسری بنیاد مولوی محمد علی صاحب کے دل میں شیطان نے رکھ دی کہ اب زندگی بھر مخالفت کرتے رہو۔بلکہ اس واقعہ کا اجمالی ذکر مولوی محمد علی صاحب نے خود ریویو آف ریلیجنز میں بھی کیا ہے۔اور یہ الفاظ لکھے ہیں کہ : اگر کسی نے میرا حسن ہونے کے باوجود بجائے اظہار غم و ہمدردی 33۔۔کے کسی گزشتہ رنج کا اظہار اس وفات کے وقت کیا تو یہ شاید میرے لئے سبق تھا کہ دنیا کے کسی گھر کو اپنا گھر سمجھنا غلطی ہے۔“ گو یا خود اُن کی اپنی تحریر بھی اس بارہ میں موجود ہے۔غرض مولوی محمد علی صاحب نے اس صدمہ کے نتیجہ میں بغض کو انتہا تک پہنچا دیا۔اور جیسے انہوں نے کہا تھا کہ میں مرنے تک یہ صدمہ نہیں بھول سکتا مرنے تک اس واقعہ کو یاد رکھا اور خاندانِ مسیح موعود کا بغض اپنے دل سے نہیں نکالا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر خلافت ثانیہ کے انتخاب پر بھی انہوں نے بغاوت کی اور اس طرح بغض و حسد کے لمبا کرنے کا سلسلہ انہوں نے جاری کر دیا۔تا کہ آدم کے زمانہ کا بغض جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ تک آیا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کا بغض جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک آیا تھا اور آپ کے دادا ہاشم بن عبد مناف کے زمانہ کا بغض جو پہلے ابوسفیان اُموی کے زمانہ تک آیا تھا اور پھر یزید بن معاویہ اور امام حسین کے زمانہ تک آیا تھا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ تک بھی مستمد ہو جائے۔غضب یہ ہوا کہ اکبر شاہ خان نجیب آبادی مشہور مؤرخ جو پہلے مبائعین میں تھے اور پھر بھاگ کر لاہور آگئے تھے ، انہوں نے مضمون لکھا کہ آرائیں قوم جس میں سے مولوی محمد علی صاحب تھے بنوامیہ میں سے ہے 24۔گویا انہوں نے کہا کہ وہ بنوامیہ کا بغض پھر بنو محمد علے سے جاری ہونا چاہیے۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کے صلى الله 34