انوارالعلوم (جلد 26) — Page 24
انوار العلوم جلد 26 24 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔میرے بعد بھی خلافت ہو گی۔اس کے بعد ظالم حکومت ہوگی۔پھر جابر حکومت ہوگی یعنی غیر قو میں آکر مسلمانوں پر حکومت کریں گی جو ز بر دستی مسلمانوں سے حکومت چھین لیں گی۔اس کے بعد فرماتے ہیں کہ پھر خلافت عَلَى مِنْهَاج النُّبُوَّةِ ہوگی۔یعنی جیسے نبیوں کے بعد خلافت ہوتی ہے ویسی ہی خلافت پھر جاری کر دی جائے گی۔23 نبیوں کے بعد خلافت کا ذکر قرآن کریم میں دو جگہ آتا ہے۔ایک تو یہ ذکر ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کے بعد خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خلافت اس طرح دی کہ کچھ ان میں سے موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی بنائے اور کچھ اُن میں سے بادشاہ بنائے 4۔اب نبی اور بادشاہ بنانا تو خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے ہمارے اختیار میں نہیں۔لیکن جو تیسرا امر خلافت کا ہے اور اس حیثیت سے کہ خدا تعالیٰ بندوں سے کام لیتا ہے ہمارے اختیار میں ہے۔چنانچہ عیسائی اس کے لئے انتخاب کرتے ہیں اور اپنے میں سے ایک شخص کو بڑا مذہبی لیڈر بنا لیتے ہیں جس کا نام وہ پوپ رکھتے ہیں۔گو پوپ اور پوپ کے متبعین اب خراب ہو گئے ہیں مگر اس سے یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ پھر اُن سے مشابہت کیوں دی ؟ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ جس طرح پہلے لوگوں کو میں نے خلیفہ بنایا تھا اسی طرح میں تمہیں خلیفہ بناؤں گا۔یعنی جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں خلافت قائم کی گئی تھی اُسی طرح تمہارے اندر بھی اُس حصہ میں جو موسوی سلسلہ کے مشابہ ہو گا میں خلافت قائم کروں گا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیحکومت براہ راست چلے گی۔پھر جب مسیح موعود آ جائے گا تو جس طرح مسیح ناصرٹی کے سلسلہ میں خلافت چلائی گئی تھی اسی طرح تمہارے اندر بھی چلاؤں گا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ موسی کے سلسلہ میں مسیح آیا اور محمدی سلسلہ میں بھی مسیح آیا مگر محمدی سلسلہ کا مسیح پہلے مسیح سے افضل ہے اس لئے وہ غلطیاں جو انہوں نے کیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میسیج محمدی کی جماعت نہیں کرے گی۔انہوں نے خدا کو کھلا دیا اور خدا تعالیٰ کو کھلا کر ایک کمزور انسان کو خدا کا بیٹا بنا کر اسے پوجنے لگ گئے۔مگر محمدی مسیح نے اپنی جماعت کو شرک کے خلاف بڑی شدت سے تعلیم دی۔بلکہ خود قرآن کریم نے کہہ دیا ہے کہ اگر تم خلافت حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر شرک کبھی نہ کرنا اور میری خالص عبادت کو ہمیشہ قائم رکھنا۔