انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 25

انوار العلوم جلد 26 b 25 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت جيسا كه يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا میں اشارہ کیا گیا ہے۔پس اگر جماعت اس کو قائم رکھے گی تبھی وہ انعام پائے گی۔اور اس کی صورت یہ بن گئی ہے که قرآن کریم نے بھی شرک کے خلاف اتنی تعلیم دی کہ جس کا ہزارواں حصہ بھی انجیل میں نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی شرک کے خلاف اتنی تعلیم دی ہے جو حضرت مسیح ناصری کی موجود تعلیم میں نہیں پائی جاتی۔پھر آپ کے الہاموں میں بھی یہ تعلیم پائی جاتی ہے۔چنانچہ آپ کا الہام ہے خُدُوا التَّوْحِيدَ التَّوْحِيدَ يَا أَبْنَاءَ الْفَارِس کے اے مسیح موعود اور اُس کی ذریت ! توحید کو ہمیشہ قائم رکھو۔سو اس سلسلہ میں خدا تعالیٰ نے تو حید پر اتنا زور دیا ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے اور قرآنی تعلیم پر غور کرتے ہوئے یہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے توحید کامل احمدیوں میں قائم رکھے گا۔اور اس کے نتیجہ میں خلافت بھی ان کے اندر قائم رہے گی اور وہ خلافت بھی اسلام کی خدمت گزار ہو گی۔حضرت مسیح ناصری کی خلافت کی طرح وہ خود اس کے اپنے مذہب کو تو ڑنے والی نہیں ہوگی۔جماعت احمدیہ میں خلافت میں نے بتایا ہے کہ جس طرح قرآن کریم نے کہا ہے کہ خلیفے ہوں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قائم رہنے کی بشارت فرمایا ہے کہ میرے بعد خلیفے ہوں گے۔پھر مُلكًا عَاضًا ہوگا۔پھر ملک جبریہ ہوگا۔اور اُس کے بعد خِلافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ہوگی۔اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں الوصیت میں تحریر فر مایا ہے کہ:۔” اے عزیز و! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں۔کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا بھی ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے