انوارالعلوم (جلد 26) — Page 482
انوار العلوم جلد 26 482 افتتاحی و اختتامی خط سہ سالانہ 1959ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 610ء میں دعویٰ نبوت فرمایا تھا اور 632ء میں آپ نے وفات پائی۔گویا آپ نے دعویٰ نبوت کے بعد صرف 23 سال عمر پائی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس قلیل مدت میں ہی آپ کے کام اور کلام میں عظیم الشان برکت ڈالی۔اور جو غیر معمولی کامیابی اس نے آپ کو بخشی وہ کسی اور نبی کو میسر نہیں آئی۔احادیث میں لکھا ہے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر جب مدینہ کی حفاظت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھدوانی شروع کی تو اچانک ایک پتھر ایسا آ گیا جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہیں آتا تھا۔صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ خود وہاں تشریف لے گئے اور کدال پکڑ کر زور سے اسے پتھر پر مارا۔اس کے نتیجہ میں اس پتھر میں سے ایک روشنی نمودار ہوئی اور آپ نے فرمایا اللهُ اَكْبَرُ اور صحابہ نے بھی بلند آواز سے آپ کے ساتھ نعرہ تکبیر بلند کیا۔پھر دوبارہ آپ نے کدال مارا تو پھر ایک روشنی نمودار ہوئی اور آپ نے فرمایا اللهُ اَکبَرُ۔اس پر صحابہ نے پھر بڑے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔اس کے بعد آپ نے تیسری مرتبہ کدال مارا اور پھر اس پتھر میں سے روشنی نکلی اور آپ نے فرمایا اللہ اکبر اور ساتھ ہی صحابہ نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا۔اور پھر ریزہ ریزہ ہو گیا۔جب پتھر ٹوٹ چکا تو صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے تین دفعہ اللهُ أَكْبَرُ کیوں کہا؟ آپ نے فرمایا کہ جب پہلی مرتبہ میں نے کدال مارا اور پتھر میں سے روشنی نکلی تو مجھے قیصر روم کے محلات دکھائے گئے اور اُن کی کنجیاں میرے سپرد کی گئیں۔پھر دوسری دفعه کدال مارا اور روشنی نکلی تو مجھے مدائن کے سفید محلات دکھائے گئے اور مملکت فارس کی کنجیاں مجھے دی گئیں۔پھر تیسری دفعہ کدال مارا اور اس میں سے روشنی نمودار ہوئی تو مجھے صنعاء کے دروازے دکھائے گئے اور مملکت یمن کی کنجیاں میرے سپرد کی گئیں 1۔چنانچہ انہی پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے خلفاء راشدین کے زمانہ میں قیصر و کسری کو زبر دست شکست دی اور شاہانِ ایران اور یمن کی سرزمین پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا۔مگر افسوس کہ بعد میں مسلمانوں نے تبلیغ اور آپ کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے میں کو تا ہی سے کام لیا اور اسلام کی اشاعت رک گئی ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ آج دنیا بھر میں مسلمان