انوارالعلوم (جلد 26) — Page 483
انوار العلوم جلد 26 483 افتتاحی و اختتامی خط سالانہ 1959ء عیسائیوں ، ہندوؤں اور بدھوں وغیرہ سے بہت زیادہ نہ ہوتے۔فطرت صحیحہ کے مطابق تعلیم کی اشاعت اگر زور سے کی جاتی تو یقیناً وہ انسانوں کو کھینچ لیتی۔مگر افسوس کہ تبلیغ اسلام کو انہوں نے فراموش کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیا میں کمزور ہوتے چلے گئے۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس غفلت کا ازالہ کریں اور ساری دنیا کو اسلام کی طرف کھینچ کر لے آئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر قریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں مگر ابھی تک اسلام دنیا میں اقلیت ہے۔عیسائیت کو 1959 سال گزر گئے مگر دنیا میں جتنی عیسائیت پھیلی ہے اُس کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ عیسائیوں نے زیادہ وفاداری سے کام لیا ہے۔مسلمان اب تک بھی صرف عرب، شام اور ایران میں ہی زیادہ ہیں ورنہ ہندوستان میں وہ کم ہیں۔روس میں وہ کم ہیں، جاپان میں وہ کم ہیں ، آسٹریلیا میں وہ کم ہیں۔تھائی لینڈ میں وہ کم ہیں، جرمنی میں وہ کم ہیں، ناروے اور سویڈن میں وہ کم ہیں، فرانس میں وہ کم ہیں ، سپین میں وہ کم ہیں، امریکہ میں وہ کم ہیں، فلپائن میں وہ کم ہیں حالانکہ فلپائن میں اسلام بڑی دیر سے قائم ہو چکا ہے۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس غفلت کا علاج کریں۔اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو برتری بخشی ہے ہم اُسے دنیا میں بھی برتر کر کے چھوڑیں۔یہاں تک کہ تمام مذاہب یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوں کہ اسلام کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا نور ساری دنیا میں پھیل جائے۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور اُس کا احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانہ میں تبلیغ اسلام کی آگ لوگوں کے دلوں میں پھر بھڑکائی اور آپ نے اپنے انفاس قدسیہ سے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جو اسلام کو تمام دنیا میں پھیلانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔مگر اس کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ابھی سارا ہندوستان باقی ہے ، سارا انگلستان باقی ہے، سارا روس باقی ہے، سارا فرانس باقی ہے ،سارا سکنڈے نیویا باقی ہے، سارا جرمنی باقی ہے، سارا آسٹریلیا باقی ہے۔اس کو تا ہی کا علاج ہم نے کرنا ہے اور ہم نے ہی ساری دنیا کو حلقہ بگوش اسلام بنانا ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو