انوارالعلوم (جلد 26) — Page 429
انوار العلوم جلد 26 429 سیر روحانی (12) اس وقت تجھ پر یہ احسان تو نہیں کر سکتے کہ ہم تیری روح کو بچائیں کیونکہ موت کے وقت تیرا ایمان لانا کافی نہیں۔اب ہم تجھ سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ تیرے جسم کو بچا لیا جائے گا تا تیرا نشان قائم رہے اور خدا تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتا رہے۔چنانچہ اب انیسویں صدی میں آثار قدیمہ کی تحقیق کرنے والوں کو فرعون کی لاش مل گئی ہے اور اُسے مصر کے عجائب گھر میں میں نے خود دیکھا ہے۔بعد میں اس لاش کولندن لے جایا گیا تھا لیکن اب سنا ہے کہ پھر مصر آ گئی ہے۔پس یہ زبر دست ثبوت اس بات کا ہے کہ قرآن کریم میں جو تاریخ عالم پائی جاتی ہے دنیا کی کوئی تاریخ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔بائبل کا دعویٰ ہے کہ وہ حضرت موسی علیہ السلام کے وقت کی تاریخ بیان کرتی ہے لیکن وہ فرعون کے جسم کے بچائے جانے کے متعلق بالکل خاموش ہے مگر قرآن کریم جو موسیٰ علیہ السلام کے دو ہزار سال بعد آیا اُن واقعات کو بیان کرتا ہے جو بائبل میں مذکور نہیں اور تاریخ ان واقعات کی تصدیق کرتی ہے۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ قرآن کریم کو نازل کرنے والا وہ خدا ہے جس سے زمین و آسمان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔قرآن کریم میں بعض پھر قرآن کریم میں انبیاء کی تاریخ کے علاوہ قوموں کی تاریخ بھی بیان ہوئی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ عاد قوم قدیم اقوام کی تاریخ کا ذکر کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادِةُ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِةُ الَّتِي لَمْ يُخْلَقُ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ۔22 کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے رب نے عاد سے کیا معاملہ کیا تھا ؟ یعنی عادِاِرم سے جو بڑی بڑی عمارتوں والے تھے اور جن کی مانند کوئی قوم ان ملکوں میں پیدا ہی نہیں کی گئی تھی۔اس آیت میں قوم عاد کی اس خصوصیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ بڑے بڑے محلات بناتی تھی جن کو ستونوں پر کھڑا کیا جاتا تھا۔چنانچہ لعل انہی لوگوں کا دیوتا تھا اور بعلبک انہی لوگوں کا بسایا ہو اشہر تھا جو لبنان کی سرحد پر واقع ہے۔میں 1955 ء میں جب بیمار ہوا اور لندن گیا تو چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے ساتھ بعلبک بھی گیا تھا۔جرجی زیدان جو بڑا سخت عیسائی مؤرخ ہے وہ بھی اپنی کتاب الْعَربُ قَبْلَ الْإِسْلَامِ 66