انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 394

انوار العلوم جلد 26 394 کی ایک دو ٹوکریاں بھی ڈال دی جائیں تو وہ بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔برسیم بے شک بہت اعلیٰ قسم کی کھاد ہے لیکن برسیم کا زیادہ مقدار میں پیدا کرنا بڑی محنت چاہتا ہے۔وہ صرف چند کنال میں ہوئی جاسکتی ہے اس لئے اگر وہ برسیم سے دس حصے کم بھی فائدہ دیتی ہو تب بھی چونکہ ہزاروں ہزارا یکڑ میں بوئی جاسکتی ہے اس لئے ملک کو حقیقی فائدہ برسیم کی نسبت کئی سو گنے زیادہ پہنچ سکتا ہے۔پس ہماری جماعت کو سورج مکھی کے بونے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔یہ عام طور پر جون میں ہوئی جاتی ہے۔اور پھر جب اس کے پودے زمین سے کچھ اوپر نکل آئیں تو اسے زمین میں دفن کر دینا چاہئے اور اپنے وقت پر تھوڑی سی مصنوعی کھا د بھی ڈال دینی چاہئے۔امریکہ کے لوگ سورج مکھی سے نہ صرف کھاد کا کام لیتے ہیں بلکہ اس سے مرغی خانے اور ڈیری فارم بھی چلاتے ہیں۔مرغیاں اس کے بیج کے کھانے سے انڈے زیادہ دیتی ہیں اور گائے اسے کھائے تو اس کا دودھ بڑھ جاتا ہے۔میں آئندہ کے لئے یہ بھی اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ ہر سال جو جماعت ” غلہ زیادہ اگاؤ کی مہم میں فرسٹ آئے گی جلسہ سالانہ پر اس کے نام کا اعلان کیا جائے گا تا کہ دوسری جماعتوں میں بھی شوق پیدا ہو۔اب میں تحریک جدید اور وقف جدید کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔تحریک جدید کو قائم ہوئے 25 سال ہو چکے ہیں لیکن وقف جدید کو قائم ہوئے ابھی ایک سال ہوا ہے وقف جدید میں شامل ہونے والوں کی درخواستیں برابر چلی آرہی ہیں مگر ابھی یہ تعداد بہت کم ہے۔وقف جدید میں شامل ہونے والے لوگ کم سے کم ایک ہزار ہونے چاہئیں۔اگر دس ہیں ہزار ہوں تو اور بھی اچھا ہے۔اگر ہماری جماعت کے زمینداراپنی آمد نہیں بڑھا ئیں تو وقف جدید کے چندے بھی بڑھ جائیں گے اور وہ مزید آدمی رکھ سکیں گے۔اس وقت 80 آدمی کام کر رہے ہیں۔پچھلے سال 70 ہزار کے وعدے آئے تھے جس میں سے اکثر حصہ وصول ہو چکا ہے اور یہ صیغہ اپنا کام عمدگی سے کر رہا ہے۔اور ترقی ہوئی تو اس کا کام اور بھی بڑھ جائے گا۔اس تحریک کے ذریعہ اس سال 400 بیعتیں آئی ہیں جبکہ اصلاح وارشاد کے ذریعہ صرف 54 بیعتیں آئی ہیں۔پس یہ نہایت مبارک کام ہے۔چونکہ وقف جدید میں پرائمری اور