انوارالعلوم (جلد 26) — Page 291
انوار العلوم جلد 26 291 گئے اور کہنے لگے بھائی ! تم بہت پیاسے معلوم ہوتے ہو میرے پاس پانی کی ایک چھاگل ہے تم اس سے کچھ پانی پی لو تا تمہاری زندگی تازہ ہو جائے۔حضرت عکرمہ نے اپنے دائیں طرف دیکھا تو حضرت فضل بن عباس بھی زخمی پڑے تھے اور وہ بھی شدت پیاس کی وجہ سے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہے تھے۔انہوں نے اس صحابی کو کہا مجھے نظر آ رہا ہے کہ اس وقت میرا ایک اور ساتھی پانی کا حاجتمند ہے۔اس لئے تمہیں خدا کی قسم ! پہلے انہیں پانی پلاؤ پھر میرے پاس آنا۔چنانچہ حضرت عکرمہ کے قسم دینے پر وہ صحابی حضرت فضل کے پاس گئے لیکن انہوں نے بھی اپنے ایک اور ساتھی کی طرف اشارہ کر کے کہا پہلے اُسے پانی پلاؤ پھر میرے پاس آنا۔اُس زخمی نے اگلے ساتھی کی طرف اشارہ کیا۔اسی طرح وہ صحابی چھا گل لے کر سات زخمیوں کے پاس گئے جو وہاں پڑے تھے لیکن اُن ساتوں میں سے ہر ایک نے اپنے دوسرے ساتھی کو پانی پلانے کے لئے کہا۔جب وہ صحابی آخری زخمی کے پاس گئے تو وہ فوت ہو چکے تھے اور جب وہ حضرت عکرمہ کے پاس واپس آئے تو وہ بھی فوت ہو چکے تھے۔3 اسی طرح تاریخ میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجد کے قریب کے علاقہ کے بعض لوگ آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ ان کے ساتھ تبلیغ کے لئے بعض مسلمانوں کو بھجوا دیا جائے۔آپ نے ان کے ساتھ 70 حفاظ بھجوا دیئے۔جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو انہوں نے سازش کر کے ان مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور دو آدمیوں کے سوا جو اونٹوں کو چرانے کے لئے باہر چلے گئے تھے باقی سب کو شہید کر دیا۔جب وہ واپس آئے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے سب ساتھی میدان میں شہید ہو چکے ہیں تو ان میں سے ایک نے تو یہ کہتے ہوئے کہ جہاں ہماری جماعت کا سردار شہید ہوا ہے میں اس جگہ کو نہیں چھوڑ سکتا تن تنہا کفار پر حملہ کر دیا اور لڑتا ہوا مارا گیا۔اور دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا۔بعد میں ایک قسم کی بناء پر جو قبیلہ کے ایک سردار نے کھائی ہوئی تھی اُسے چھوڑ دیا گیا۔ان حفاظ میں جنہیں شہید کیا گیا تھا حضرت ابو بکڑ کے غلام عامر بن فہیر ہ بھی تھے یہ عا مر بن فہیرہ وہی تھے جو ہجرت کے وقت رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے ساتھ تھے۔