انوارالعلوم (جلد 26) — Page 209
انوار العلوم جلد 26 209 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے اس کے متعلق کوئی بے وقوف ہی دعوئی کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ میں اسے اٹھاؤں گا۔ہاں سمجھدار اور عقل مند انسان اِنْشَاءَ اللہ کہہ کر اور ڈرتے ہوئے دل کے ساتھ کہتا ہے کہ میں اسے اٹھاتا ہوں کیونکہ بغیر اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس بوجھ کے اٹھانے کی توفیق دے اور مدد کرے میں خود اسے نہیں اٹھا سکتا۔زمین و آسمان کے باشندے اپنی طاقت سے نہ اس بوجھ کو پہلے اٹھا سکتے تھے اور نہ اپنی طاقت سے اب اٹھا سکتے ہیں۔دیکھ لو مسلمانوں نے کچھ عرصہ کی جدو جہد کے بعد کس طرح اس بوجھ سے آزاد ہونے کی کوشش کی۔اسی حالت کا خطرہ اب آپ لوگوں کے لئے بھی ہے۔ممکن ہے کچھ وقت تبلیغ کرنے کے بعد جماعت کے بڑے اور چھوٹے سُست ہو جائیں اور وہ اس بوجھ کو اتارنے کی کوشش کریں اور تبلیغ کا کام چھوڑ دیں۔آج تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم ہر جگہ تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔اگر کوئی پوچھے کہ یورپ میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔اگر کوئی پوچھے کہ افریقہ میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔اگر کوئی پوچھے کہ فلپائن میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔اگر کوئی پوچھے کہ انڈونیشیا میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔اگر کوئی پوچھے کہ سیلون میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔اگر کوئی پوچھے کہ امریکہ میں کون تبلیغ کر رہا ہے ؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔اگر کوئی پوچھے کہ برٹش گی آنا، فریج گی آنا اور ڈچ گی آنا میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔لیکن اگر خدانخواستہ ہم سے تبلیغ میں کوتاہی ہوئی اور ہم نے اپنے اس فرض کو ادا کرنا چھوڑ دیا تو ہماری وہی حالت ہوگی جس کا ایک پور بیانے مظاہرہ کیا تھا۔کہتے ہیں کہ جب کوئی پور بیا مر جاتا ہے تو اس کے سارے رشتہ دار ا کٹھے ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد اس کی بیوی ئین کرتی ہے اور کہتی ہے کہ مرنے والے کا فلاں فلاں قرضہ کون ادا کرے گا یا اس سے فلاں نے جو قرض لیا تھا اسے کون وصول کرے گا ؟ ایک دفعہ ایک پور بیا مرا تو اُس کے تمام رشتہ دار جمع ہوئے۔اُس کی بیوی نے بین کرتے ہوئے کہا اس نے فلاں سے اتنا روپیہ لینا تھا وہ اب کون لے گا ؟ اس پر ایک پور بیا گو دکر آگے