انوارالعلوم (جلد 26) — Page 210
انوار العلوم جلد 26 210 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔آ گیا اور کہنے لگا اری ہم ری ہم۔بیوی نے پھر کہا اُس نے فلاں مکان فلاں کو دیا تھا وہ اب واپس کون لے گا ؟ تو وہی پور بیا کہنے لگا اری ہم ری ہم۔اسی طرح اُس عورت نے وہ ساری رقوم گنوائیں جو مرنے والے نے دوسروں سے لینی تھیں اور وہی پور بیا جواب میں کہتا رہااری ہم ری ہم۔اس کے بعد اس عورت نے کہا ارے مرنے والے نے فلاں کی اتنی رقم دینی تھی وہ اب کون دے گا ؟ تو وہ پور بیا پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا ارے میں ہی بولتا جاؤں یا کوئی اور بھی بولے گا۔یہی پور بیا والا حال تمہارا بھی نہ ہو۔اب تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں تبلیغ کا جوش دیا ہے اور جماعت ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہی ہے اور اس وقت یہ حالت ہے کہ اگر کوئی کہے کہ انڈونیشیا میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو تم کہتے ہو کہ ارے ہم رے ہم۔اگر کوئی کہے کہ ملایا میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو تم کہتے ہوارے ہم رے ہم۔لیکن اگر جماعت پرستی کا وقت آیا تو تم کہو گے کوئی اور بھی بولے کیا ہم اکیلے ہی بولتے چلے جائیں۔یہ سارا بوجھ اب تک ہم نے ہی اٹھایا ہوا تھا اب کوئی اور بھی تو اٹھائے ، اب کوئی اور بھی تو جرمنی جائے اور اسلام کی تبلیغ کرے۔مگر یا درکھو دلہن ہمیشہ دولہا کے گھر ہی بسا کرتی ہے ہمسایہ کے گھر میں نہیں بسا کرتی۔یا یوں کہو کہ دولہا کے گھر دلہن ہی بسا کرتی ہے ہمسائی نہیں بسا کرتی۔مساجد کا کام ہماری دلہن ہے اور اس نے ہمارے ہی گھر آنا ہے کسی اور کے گھر نہیں جانا۔ہماری بے غیرتی ہوگی کہ یہ کام کسی اور کے گھر چلا جائے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں آسمانی بادشاہت کو دلہن سے تشبیہہ دی ہے 3 مگر عیسائیوں نے تو غفلت سے کام لیا اور چرچ کو شیطان کے سپر د کر دیا۔یا دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ دلہن کو دولہا کے سوا کسی اور کے سپرد کر دیا لیکن ہمارا کام یہ ہے کہ ہم مساجد کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کے لئے آباد رکھیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ مساجد اس لئے ہیں کہ ان میں میرا ذکر بلند ہو پس جب ہم مساجد بناتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم دلہن کو اس کے دولہا کے سپر د کرتے ہیں اور جب مساجد بنانے میں کمزوری دکھاتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ہم دلہن کو دولہا کے پاس پہنچانے میں سستی سے کام لیتے