انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 137

وار العلوم جلد 26 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 137 سیر روحانی (10) نَحْمَدُهُ وَ نُصَلّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سیر روحانی (10) (فرمودہ 28 دسمبر 1956ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اصل مضمون سیر روحانی پر تقریر کرنے سے قبل بعض امور کی طرف احباب کو توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا۔: تقریر سے پہلے میں کچھ اعلانات کرنا چاہتا ہوں۔ایک تو یہ ہے کہ ربوہ میں ہم نے ایک ہزا را یکٹر زمین خریدی تھی جو اس کی آبادی کے لئے اس طرح فروخت کی گئی کہ اس میں دو حصے صدر انجمن احمدیہ کے تھے اور ایک حصہ تحریک جدید کا تھا اور اس طرح ان دونوں صیغوں کے کام چلے ورنہ ربوہ میں نہ کالج بن سکتے نہ سکول بن سکتے نہ یہ دفاتر بن سکتے نہ یہ عمارتیں بن سکتیں۔گویا روپیہ تو آپ لوگوں نے ہی دیا مگر زمین لے کر دیا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے مکان بن چکے ہیں اور اب جماعت کے لوگ پریشان ہیں کہ انہیں اور زمین نہیں ملتی۔میں نے احتیاطاً یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے بندے جو بھی انتظام کریں گے وہ تھوڑا ہی ہوگا اس لئے زمین بہر حال پک جائے گی اور آخر اور ضرورت پیش آئے گی۔ربوہ کے ساتھ سرحد پر ملتی ہوئی زمینیں خریدنے کے لئے ناظم جائیداد کو حکم دیا تھا۔چنانچہ انہوں نے ایک کافی مقدار میں سکنی زمین کنالوں کی صورت میں خرید لی۔قریباً دو ہزار مرلے میں نے بھی خریدی۔لیکن میں نے یہ حکم دیا ہوا تھا کہ چونکہ یہاں سلسلہ کا کام ہونا ہے اس لئے افراد کو خریدنے کی اجازت نہیں سوائے اس صورت کے کہ وہ انجمن سے اجازت لیں اور انجمن سے وعدہ کریں کہ اگر انہوں نے اسے سکنی زمین کر کے بیچا تو جس قیمت پر زمین خریدی ہے اور جس پر نیچی ہے اس کے