انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 138

انوار العلوم جلد 26 138 سیر روحانی (10) درمیان میں جتنی رقم آئے اس سے آدھی رقم وہ سلسلہ کو دیں گے۔اور میں نے بھی اس شرط سے زمین خریدی ہے۔جب وہ پکے گی تو جو رقم آئے گی جس قیمت پر میں نے اس کو خریدا ہے اس کے اور فروخت کے درمیان جو فاصلہ ہوگا اس کی آدھی رقم میں سلسلہ کو اس کے کاموں کے لئے دوں گا۔اب مجھے رپورٹ پہنچی ہے کہ جو زمین خریدی گئی تھی وہ ختم ہوگئی ہے صرف پندرہ کنال باقی ہے۔اس لئے جو نئی زمین ہے اس کے بیچنے کی اجازت دی جائے۔چنانچہ میں نے اجازت دے دی ہے کہ فی الحال 100 کنال وہ بیچ دیں اور 100 کنال چار سو روپے کنال پر پیچیں۔پس جو دوست لینا چاہتے ہیں وہ دیکھ لیں۔پیچھے یہ حالت ہوتی ہے کہ آج تک لوگ میرے پاس آتے ہیں اور حسرت سے کہتے ہیں کہ پہلے جب سو روپیہ کنال تھی تو ہم نے نہ لی۔اُس وقت اگر ہم ہیں چھپیں کنال خرید لیتے تو ہماری کوٹھیاں بن جاتیں۔میں نے کہا تم نے خدا پر اتنا تو کل نہیں کیا اس لئے نہیں ملی تو آب جو چاہیں 100 کنال تک لے سکتے ہیں۔پھر بعد میں شکوہ نہ پیدا ہو۔پہلے بھی میں نے 100 کنال کہی تھی اور اس کے لئے ایک تاریخ مقرر کی تھی اس کا مطلب یہ تھا کہ 100 کنال اس تاریخ تک۔یہ مطلب نہیں تھا کہ اس تاریخ تک 100 کنال اگر پک جائے تب بھی یہی قیمت لی جائے گی۔اب بھی یہ ہوگا کہ دو مہینے کی ہم مہلت دیں گے لیکن اگر دو مہینے کے اندر اندر 100 کنال پک گئی تو اس کے بعد وہ رعایت ختم ہو جائے گی ہم دو مہینے کا لفظ نہیں سنیں گے۔دو مہینے صرف اس میعاد کے لئے رکھے ہیں کہ اگر 100 کنال نہ پکے تب بھی ہم کچھ زمین دو مہینے کے بعد دے دیں گے اور قیمت چاہیں تو بڑھا دیں گے۔لیکن دو مہینے تک 100 کنال تک کی قیمت صرف چار سو روپیہ کنال رہے گی۔اگر دو مہینے کے اندر 100 کنال پک گئی اور کوئی اور گاہک آئے تو پھر بیچنے والوں کو حق ہوگا کہ وہ چارسو کی بجائے پانچ سو، چھ سو ، سات سو اور آٹھ سو وصول کریں۔تو آب دو مہینے تک 100 کنال زمین خریدنے کا آپ لوگوں کو حق ہے۔میں نے اپنی زمین ابھی رو کی ہوئی ہے تا کہ انجمن کی کچھ زمین پک جائے اور ان کا قدم جم جائے اور تجارت کا رُخ اُدھر ہو جائے۔جب تک انجمن کی زمین پک نہ جائے اُس وقت تک میں اپنی زمین