انوارالعلوم (جلد 26) — Page 63
انوار العلوم جلد 26 63 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت کا ہن کے پاس جب فیصلہ گیا تو اُس نے ہاشم کے حق میں فیصلہ کیا۔اور فیصلہ کے مطابق امیہ کو مکہ سے دس سال کی جلا وطنی قبول کرنی پڑی۔اور وہ شام چلے گئے۔اس تاریخ سے بنو ہاشم اور بنوامیہ میں حاسدانہ لڑائی شروع ہوگئی 28 محاضرات میں شیخ محمد خضری بھی اس رقابت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔ہاشم اور اس کے بھتیجے اُمیہ کے درمیان مفاخرت اور مقابلہ شروع ہو گیا کیونکہ ہاشم مال کی وجہ سے اور قومی ضروریات کو پورا کرنے کی وجہ سے قوم کا سردار تھا اور امیہ مال اور اولاد والا تھا۔چنانچہ وہ اپنے چچا - مفاخرت اور مقابلہ کرتا تھا اور اس وجہ سے دونوں خاندانوں اور ان کی اولادوں میں رقابت رہی یہاں تک کہ اسلام ظاہر ہو گیا۔29 دائرۃ المعارف یعنی عربی انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے کہ بنوامیہ اور بنوقریش پہلے ایک ہی قبیلہ کے افراد تھے اور سب اپنے آپ کو عبد مناف کی طرف منسوب کرتے تھے۔لیکن بنو امیہ کا خاندان بڑا تھا اور اُن کے پاس مال زیادہ تھا اس لئے باوجود اس کے کہ بنو ہاشم کے پاس سرداری تھی وہ ان سے ہر بات میں بڑھنے کی کوشش کرتا اور مقابلہ کرتا رہتا تھا۔اسی طرح اُن کی اولاد میں بھی رقابت چلتی گئی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائیوں میں بھی اس لئے کہ آپ ہاشم کی اولاد تھے عام طور پر ابوسفیان جو عبد الشمس کی اولاد میں سے تھا سردار ہو کر آیا کرتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو بنو امیہ شکست کھا گئے لیکن آپ کی وفات کے بعد اس فتنہ نے سراٹھانا شروع کیا اور شیطان نے اپنا ہتھیار اور لوگوں کو چن لیا۔چنانچہ جب حضرت علی خلیفہ ہوئے تو معاویہ بن ابو سفیان نے جو بنوامیہ میں سے تھے آپ کے مقابلہ کے لئے لشکر جمع کیا۔30 غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور حضرت علی کے زمانہ میں بھی شیطان نے وہی کے زمانہ میں شیطان کا حربہ حربہ نظامِ حقہ کے خلاف استعمال کیا جو اول دن سے وہ نظام حقہ کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے یعنی حسد